خوشگوار ماحول میں ٹرمپ کی قطری وزیر اعظم سے دو گھنٹے طویل ملاقات

واشنگٹن میں قطری مشن کے سربراہ حمد المفتاح نے کہا کہ وزیر اعظم کا امریکی صدر کے ساتھ شاندار عشائیہ ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایک قطری سفارتکار کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور قطر کے وزیر اعظم و وزیر خارجہ، شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی کے درمیان نیویارک میں جمعے کی شام (مقامی وقت کے مطابق) بہترین ملاقات ہوئی۔

قطر کے واشنگٹن میں نائب سفیر، حمد المفتاح نے آج (ہفتہ) ایکس پر اپنے اکاؤنٹ پر لکھا:"صدر کے ساتھ شاندار عشائیہ… ابھی ابھی ختم ہوا ہے!

اس کے بعد ایک باخبر ذریعے نے بتایا کہ ٹرمپ اور آل ثانی کے درمیان ملاقات دو گھنٹے تک جاری رہی، جس میں متعدد معاملات پر گفتگو ہوئی، اور ماحول انتہائی خوشگوار رہا۔

نیوز نیشن کی نمائندہ کیلی مائر کی رپورٹ کے مطابق اس ملاقات میں امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف بھی شریک تھے۔

اس سے قبل قطری وزیر اعظم نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بھی ملاقات کی، جسے مثبت قرار دیا گیا۔

نتن یاہو پر تنقید

قطری وزیر اعظم کا دورۂ امریکا ایسے وقت میں ہوا ہے جب چند روز قبل اسرائیل نے دوحہ میں ایک کمپلیکس پر حملہ کیا تھا، جہاں حماس کے رہنما جمع تھے تاکہ غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے لیے امریکی تجویز پر غور کر سکیں۔

تاہم غزہ میں جنگ بندی کے مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کرنے والے ملک قطر کے دارالحکومت پر اس حملے نے عرب دنیا اور عالمی سطح پر شدید غم و غصہ پیدا کر دیا۔

یہاں تک کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اتحادی، اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر شدید تنقید کی اور ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ "خوش نہیں ہیں"۔

جبکہ قطری وزیراعظم نے ایک موقع پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ نیتن یاہو کو "انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے"، اور مزید کہا کہ اس حملے نے غزہ میں یرغمالیوں کی رہائی کی "کسی بھی امید کو ختم کر دیا ہے"۔

قطری وزارتِ خارجہ نے اس حملے کو "بزدلانہ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ریاستی دہشت گردی کے مترادف ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں