ایک قطری سفارتکار کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور قطر کے وزیر اعظم و وزیر خارجہ، شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی کے درمیان نیویارک میں جمعے کی شام (مقامی وقت کے مطابق) بہترین ملاقات ہوئی۔
قطر کے واشنگٹن میں نائب سفیر، حمد المفتاح نے آج (ہفتہ) ایکس پر اپنے اکاؤنٹ پر لکھا:"صدر کے ساتھ شاندار عشائیہ… ابھی ابھی ختم ہوا ہے!
اس کے بعد ایک باخبر ذریعے نے بتایا کہ ٹرمپ اور آل ثانی کے درمیان ملاقات دو گھنٹے تک جاری رہی، جس میں متعدد معاملات پر گفتگو ہوئی، اور ماحول انتہائی خوشگوار رہا۔
Great dinner with POTUS. Just ended !
— Hamad AlMuftah (@hmmm1983) September 13, 2025
نیوز نیشن کی نمائندہ کیلی مائر کی رپورٹ کے مطابق اس ملاقات میں امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف بھی شریک تھے۔
اس سے قبل قطری وزیر اعظم نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بھی ملاقات کی، جسے مثبت قرار دیا گیا۔
President Trump’s dinner with Qatar’s PM along with Special Envoy Steve Witkoff went “great” a source familiar with the dinner tells me tonight.
— Kellie Meyer (@KellieMeyerNews) September 13, 2025
It was scheduled to start by 730 pm Et and I’m told wrapped just before 930 pm Et. The source said they had “positive results” and… https://t.co/PXkun2ls0Z
نتن یاہو پر تنقید
قطری وزیر اعظم کا دورۂ امریکا ایسے وقت میں ہوا ہے جب چند روز قبل اسرائیل نے دوحہ میں ایک کمپلیکس پر حملہ کیا تھا، جہاں حماس کے رہنما جمع تھے تاکہ غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے لیے امریکی تجویز پر غور کر سکیں۔
تاہم غزہ میں جنگ بندی کے مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کرنے والے ملک قطر کے دارالحکومت پر اس حملے نے عرب دنیا اور عالمی سطح پر شدید غم و غصہ پیدا کر دیا۔
یہاں تک کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اتحادی، اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر شدید تنقید کی اور ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ "خوش نہیں ہیں"۔
جبکہ قطری وزیراعظم نے ایک موقع پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ نیتن یاہو کو "انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے"، اور مزید کہا کہ اس حملے نے غزہ میں یرغمالیوں کی رہائی کی "کسی بھی امید کو ختم کر دیا ہے"۔
قطری وزارتِ خارجہ نے اس حملے کو "بزدلانہ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ریاستی دہشت گردی کے مترادف ہے۔