فلم بینوں کا اسرائیلی فلمی اداروں کا بائیکاٹ کرنے کا عہد، پیراماؤنٹ سٹوڈیو کی شدید تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

پیراماؤنٹ سٹوڈیو نے جمعہ کے روز کہا کہ اس نے اسرائیلی فلمی اداروں کے ساتھ کام نہ کرنے کے ایک عہد کی مذمت کی ہے جس پر اس ہفتے کے شروع میں 4,000 سے زیادہ اداکاروں، فلم بینوں اور فلم سازوں بشمول بعض ہالی ووڈ ستاروں نے دستخط کیے ہیں۔ یہ افراد ان اداروں کو اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کے خلاف ہونے والی زیادتی میں ملوث سمجھتے ہیں۔

یہ عہد کیوں اہمیت کا حامل ہے؟

پیراماؤنٹ پیر کو جاری کردہ عہد پر ردِ عمل دینے والا پہلا بڑا فلم سٹوڈیو بن گیا۔

جیسا کہ غزہ میں اسرائیل کے فوجی مظالم سے انسانی بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے تو بعض تنظیموں کو اسرائیلی حکومت کے ساتھ تعلقات پر بائیکاٹ اور احتجاج کے مطالبات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

کلیدی اقتباسات

پیراماؤنٹ نے کہا، "ہم اسرائیلی فلم سازوں کے بائیکاٹ کی حالیہ کوششوں سے اتفاق نہیں کرتے۔ انفرادی تخلیقی فنکاروں کو ان کی قومیت کی بنیاد پر خاموش کرنے سے بہتر تفہیم اور ابلاغ کو فروغ نہیں ملتا اور نہ ہی امن کا مقصد آگے بڑھتا ہے۔ ہمیں کم نہیں بلکہ زیادہ مشغولیت اور مواصلت کی ضرورت ہے۔"

اس ہفتے کے اوائل میں کیے گئے عہد میں کہا گیا کہ اس میں کسی پر زور نہیں دیا گیا کہ وہ اسرائیلی افراد کے ساتھ کام بند کر دے بلکہ اس کے بجائے "فلمی کارکنان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اُن اسرائیلی اداروں کے ساتھ کام کرنے سے انکار کر دیں جو انسانی حقوق کی اسرائیلی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں۔"

اس میں کہا گیا، اسرائیلی فلمی ادارے فلسطینیوں کے ساتھ بدسلوکی سے "انکار یا اسے جواز فراہم کرنے" میں مصروف تھے اور اسی بنا پر ماضی میں فلم بینوں نے نسل پرستی کے دور کے جنوبی افریقہ کے خلاف ایسا ہی عہد کیا تھا۔

دستخط کنندگان میں اداکار اولیویا کولمین، ایما سٹون، مارک روفالو، ٹلڈا سوئٹن، رِض احمد، جیویئر بارڈیم اور سنتھیا نکسن شامل تھے۔

سیاق و سباق

یہ عہد اسرائیل کے غزہ میں جاری فوجی مظالم کے ردِ عمل میں کیا گیا ہے جن میں دسیوں ہزار لوگ ہلاک ہو چکے ہیں، غزہ کی پوری آبادی اندرونی طور پر بے گھر ہو گئی ہے اور قحط پیدا ہو گیا ہے۔ انسانی حقوق کے متعدد ماہرین اور سکالرز اسے نسل کشی کے مترادف قرار دیتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں