ملازمہ ماں کی آغوش میں نومولود بچی کی موت؛ مصر میں غم وغصہ
چھٹی ختم ہونے پر والدہ بیٹی کو کام پر ساتھ لے گئی لیکن مگر کمپنی نے ڈاکٹر کے پاس جانے کی اجازت نہیں دی
مصر کے شمالی صوبے اسکندریہ میں ایک والدہ کی آغوش ان کی نومولود بچی کی رحلت پر ملک بھر میں غم و غصہ کے جذبات پائے جاتے ہیں۔ والدہ مجبوری کے طور پر ننھنی بیٹی کو کام کی جگہ پر ساتھ لے گئیں، جبکہ انتظامیہ نے تین گھنٹے تک انہیں ڈاکٹر کے پاس جانے کی اجازت نہیں دی۔
تفصیلات کے مطابق ریشم و ٹیکسٹائل فیکٹری میں ملازمہ دعاء محمد جمعہ کو اپنی نومولود بیمار بیٹی کو کام پر لے آئیں، کیونکہ چھٹی ختم ہو جانے کے باعث انہیں ایک دن کی تنخواہ کٹنے کا خدشہ تھا۔
کام کے دوران بچی کی حالت بگڑ گئی، تو انہوں نے کمپنی افسران سے اجازت یا چھٹی مانگی تاکہ ڈاکٹر کے پاس جا سکیں۔ انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات تقریباً تین گھنٹے جاری رہے، مگر اچانک بچی والدہ کی آغوش میں وفات پا گئی۔ اسی موقع پر کمپنی نے انہیں جانے کی اجازت دی۔
تنخواہ 100 ڈالر سے بھی کم
اس واقعے نے سیکڑوں کارکنوں کو غصے میں مبتلا کر دیا اور انہوں نے کمپنی کے سامنے احتجاجی مظاہرے کیے۔ مزدور تنظیموں نے بھی کمپنی کے رویے اور سلوک کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ واقعے کی تحقیقات کی جائیں اور نومولود بچی کی موت کے ذمہ داران کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
مصر کی ویمن رائٹس فاؤنڈیشن نے بیان میں کہا کہ بدقسمت بچی کی والدہ ان 1700 خواتین کارکنان میں شامل تھیں، جن کی تنخواہ 100 ڈالر سے زیادہ نہیں تھی۔ "بچی کی بیماری کے وقت ان کے لیے کوئی رحم کرنے والا نہیں تھا، اور زچگی کی چھٹی کے دوران انہیں قانون کے مطابق مکمل تنخواہ بھی نہیں ملی۔"
فاؤنڈیشن نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ حکام واقعے کی تحقیقات کریں، گواہوں اور والدہ کو دباؤ سے محفوظ رکھیں اور تمام ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں۔
فاؤنڈیشن نے مزدور خواتین کے بچوں کے لیے فیکٹریوں اور کام کی جگہوں پر مناسب مفت طبی امداد/ڈی کیئر فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ بچوں کو صحت اور تربیت کی سہولت مل سکے۔ نیز انہوں نے 2025 کے لیبر قانون کے سیکشن 14 کے تحت خواتین کارکنوں کے حقوق جیسے چھٹیاں، ہاسپیٹل کی سہولت وغیرہ کے نفاذ کا مطالبہ بھی کیا
تحقیقات کا آغاز
وزیرِ محنت محمد جبران نے واقعے کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا اور فون کے ذریعے والدہ سے رابطہ کر کے انھیں حمایت کا یقین دلایا۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود اس واقعے کی پیروی کر رہے ہیں اور اسکندریہ میں لیبر ڈائریکٹر کو ہدایت دی گئی ہے کہ تمام حقائق کی تصدیق کرے اور قانونی کارروائی کی جائے۔
وزیر نے مزید کہا کہ مزدوروں کے جائز مطالبات پر غور کیا جا رہا ہے اور تمام حقوق قانون کی طاقت سے محفوظ ہیں۔ انہوں نے اس بات کی وضاحت بھی کی کہ واقعے کے آغاز سے لے کر اب تک وہ تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔