انقرہ : اپوزیشن جماعت کے خلاف عدالتی فیصلہ قریب پہنچنے پر اپوزیشن کا احتجاج
ہزاروں افراد کی مظاہرے میں شرکت
ہزاروں مظاہرین نے اتوار کے روز ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں جمع ہو کر احتجاج کیا ہے۔ یہ مظاہرین جن کا اپوزیشن جماعت ریںپبلکن پیپلز پارٹی سے تعلق تھا اپنے سینکڑوں افراد کے خلاف ممکنہ عدالتی فیصلے سے پہلے احتجاج کر رہے تھے۔ مظاہرہن ترک صدر طیب ایردوان کے استعفے کا مطالبہ کررہے تھے اور زور دار نعرہ بازی کر رہے تھے۔
اپوزیشن جماعت کے کارکنوں کو خدشہ ہے کہ اپوزیشن جماعت کے سربراہ کے خلاف عدالتی فیصلہ آجائے گا اور ان کی سیاست پر پابندی لگ سکتی ہے۔
خیال رہے اس مقدمے کی عدالت میں سماعت کا سلسلہ تقریبا ایک سال جاری رہا۔اس سے پہلے ایک قانونی کریک ڈاؤن میں سینکڑوں کارکنوں کو اس لپیٹ میں لیا گیا۔ اتوار کے روز مظاہرے میں شریک کارکنوں نے ترکیہ کے پرچم اور اپنی جماعت کے پرچم اور بینر اٹھا رکھے تھے۔
یہ مظاہرہ اس عدالتی حکم کے بعد سامنے آیا ہے جو پیر کے روز سنایا گیا اور جس میں کہا گیا ہے ری پبلکن پیپلز پارٹی کی طرف سے کی گئی بعض بے قاعدگیوں کی بنیاد پر اس پارٹی کا آنے والے دنوں میں خود کو ' ری شیپ ' کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس حکم نامے کے بعد سے مقامی مالیاتی ادروں اور منڈیوں میں افراتفری سی ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ 2028 میں متوقع انتخابات بھی اس فیصلے کے زیر اثر آسکتے ہیں۔ یہ بھی امکان ہے کہ عدالتی فیصلے کو موخر بھی کیا جا سکتا ہے۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ریںپبلکن پیپلز پارٹی کے قائد نے کہا پچھلے سال ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں اپوزیشن جماعت کی فتح کے بعد حکومت مسلسل جمہوری اقدار کو پامال کر رہی ہے۔
انہوں نے عام انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا حکومت ہمیں ایک سیاسی مقدمے میں الجھانا چاہتی ہے۔ہمارے ساتھیوں کے خلاف جھوٹ اور بہتان گھڑا گیا ہے۔ حکومت یہ سب کچھ کر کے بغاوت کی مرتکب ہو رہی ہے۔
مستقبل میں آنے والے صدر اور حکومت کے خلاف بغاوت کا ارتکاب کر رہی ہے۔ مگر ہم اس کی مزاحمت کریں گے۔
دوسری جانب حکومت عدالتوں کو آزاد قرار دیتی ہے اور مقدمات کے سیاسی ہونے کی تردید کرتی ہے۔
یاد رہےحکومت نے استنبول کے میئراکرم امام اوغلو سمیت 17 میئر اور 500 کے لگ بھگ سیاسی کارکنوں کو کرپشن الزامات کی تحقیقات کے لیے حراست میں لے رکھا ہے۔ میئر استنبول کی گرفتاری پر بہت بڑے احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔
اپوزیشن جماعت کے سینکڑوں ممبر بدعنوانی اور دہشت گردی سے تعلق کی بنیاد پر لگے الزامات کے تحت گرفتار ہیں۔