امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ یوکرین میں جنگ ختم کرنے کے خواہش مند ہیں لیکن معاملہ پیچیدہ ہے، کیونکہ روسی صدر ولادی میر پوتین اور یوکرینی صدر ولودی میر زیلنسکی کے درمیان "ناقابلِ تصور نفرت" موجود ہے۔
نیوجرسی میں طیارے پر سوار ہونے سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ پوتین اور زیلنسکی بات کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔
ترمب: الكراهية بين بوتين وزيلينسكي لا يمكن تصورها.. وأود إيقاف الحرب في أوكرانيا لكن الأمر يبدو صعبا#قناة_العربية pic.twitter.com/HzDlJh5Lou
— العربية عاجل (@AlArabiya_Brk) September 14, 2025
انھوں نے یورپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یورپی ممالک اب بھی روسی تیل خرید رہے ہیں، خواہ بالواسطہ طریقوں سے ... اور ان پر لازم ہے کہ وہ روس پر اپنی پابندیاں مزید سخت کریں۔
ٹرمپ کے مطابق یورپی پابندیاں مطلوبہ حد تک "سخت نہیں" ہیں۔ انھوں نے کہا "یورپ روس سے تیل خریدتا جا رہا ہے، میں یہ نہیں چاہتا۔ ان کی لگائی گئی پابندیاں سخت نہیں ہیں۔ میں مزید پابندیاں لگانے کو تیار ہوں، لیکن یورپ کو اپنے اقدامات سخت کرنے ہوں گے تاکہ وہ میرے اقدامات کے مطابق ہوں۔"
انھوں نے مزید کہا "گیس ہو یا سگریٹ، مجھے پروا نہیں، انھیں روس سے کچھ نہیں خریدنا چاہیے جبکہ ہم امداد پر بھاری رقوم خرچ کر رہے ہیں۔"
ترمب: أوروبا مستمرة في شراء النفط الروسي ولو بطرق غير مباشرة وعليها أن تشدد عقوباتها على روسيا#قناة_العربية pic.twitter.com/yZRptNMzx9
— العربية عاجل (@AlArabiya_Brk) September 14, 2025
ٹرمپ نے نیٹو کے حوالے سے کہا "ہم صرف ہتھیار بیچ رہے ہیں اور یہ واقعی حیرت انگیز ہے۔ بائیڈن نے 350 ارب ڈالر خرچ کر ڈالے، جبکہ میں نے کچھ نہیں دیا، بلکہ ہم منافع کما رہے تھے۔ لیکن میں یہ قتل و غارت روکنا چاہتا ہوں۔"
امریکی صدر کے مطابق بعض نیٹو ممالک بالواسطہ روسی تیل حاصل کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق "ایسا لگتا ہے کہ وہ تیل دو ملکوں کے ذریعے خریدتے ہیں جو اسے دوبارہ فروخت کرتے ہیں۔ یہ تمام نیٹو نہیں، لیکن اس کے کچھ بہت اہم رکن ممالک ہیں۔ یہ اصل معاہدہ نہیں تھا۔"
دوسری جانب یوکرینی صدر ولودی میر زیلنسکی نے کہا کہ روسی صدر پوتین نے حالیہ ملاقات میں امریکی صدر ٹرمپ سے اپنے مقاصد حاصل کر لیے۔
کئیف میں سی این این کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے زیلنسکی نے کہا "میرے خیال میں پوتین کے لیے امریکا کے صدر سے ملاقات یقینی طور پر کامیاب رہی، وہ بھی امریکی سرزمین پر۔ انھوں نے امریکا کے صدر کے ساتھ تصاویر بنوائیں۔"
زیلنسکی نے کہا "پوتین نے جنگ بندی کا وعدہ نہیں کیا، البتہ شاید انھوں نے صدر ٹرمپ سے کچھ وعدہ کیا ہو، مجھے معلوم نہیں، لیکن اس پر عمل نہیں کیا۔ اس نے پابندیاں مؤخر کر دیں اور کسی سخت دباؤ کو بھی ملتوی کر دیا۔ پوتین اچھی طرح جانتے ہیں کہ ٹرمپ یہ کر سکتے ہیں۔ اسی لیے میں نے کہا کہ غالباً پوتین زیادہ کامیاب رہے۔"