غزہ کے عوام بہتر مستقبل کے حق دار ہیں:امریکی وزیر خارجہ کی گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے پیر کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ اسرائیل "تمام قیدیوں کو واپس لانے اور حماس کو شکست دینے" کے عزم پر قائم ہے۔ اس موقع پر روبيو نے کہا کہ "غزہ کے شہری بہتر مستقبل کے مستحق ہیں، لیکن یہ مستقبل تب تک ممکن نہیں جب تک حماس کا خاتمہ نہ ہو"۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ قطر کے کردار کو غزہ ڈیل میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حماس کو تمام قیدیوں کو رہا کرنا اور ہتھیار ڈالنا ہوں گے۔

امریکی وزیر خارجہ نے الزام عائد کیا کہ حماس "غزہ کے شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہے" اور اسے "ایسا دہشت گرد گروہ قرار دیا جو اسرائیل کے خاتمے کا مقصد رکھتا ہے"۔ ساتھ ہی انہوں نے خلیجی اتحادیوں کے ساتھ امریکہ کے مضبوط تعلقات کوبھی سراہا۔

ایرانی معاملے پر روبيو نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ "ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی جاری رکھیں گے" اور اس کے خطرات نہ صرف اسرائیل بلکہ یورپ اور دنیا بھر کو لاحق ہیں۔

نیتن یاھو نے دوحہ میں حماس کے رہنماؤں پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ "یہ کارروائی ناکام نہیں ہوئی اور حماس کے رہنماؤں کو دنیا کے کسی کونے میں بھی تحفظ حاصل نہیں ہوگا"۔

انہوں نے غزہ کے شہریوں کو علاقہ چھوڑنے کا مشورہ دیا اور دعویٰ کیا کہ "حماس ان کے انخلا کو روکتی ہے"۔ نیتن یاھو کے مطابق فوجی کارروائی کے دوران ٹاورز کو گرانے کا جواز یہ ہے کہ "انہیں حماس عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے"۔

نیتن یاھو نے روبيو کی موجودگی کو "واشنگٹن کی اسرائیل کے ساتھ کھلی حمایت کا پیغام" قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "ٹرمپ اسرائیل کے لیے وائٹ ہاؤس میں سب سے بڑے دوست ہیں"۔

یہ دورہ اس وقت ہوا جب اسرائیل کی جانب سے دوحہ پر حالیہ حملوں پر خطے اور عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ خود صدر ٹرمپ نے بھی کہا کہ "قطر ایک شاندار اتحادی ہے، اس لیے اسرائیل اور دوسروں کو احتیاط کرنی چاہیے"۔

دوحہ نے ان حملوں کی مذمت کی اور اتوار کو قطری وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ "اسرائیل کو تمام جرائم پر سزا دی جائے"۔

قطر، امریکہ اور مصر کے ساتھ مل کر غزہ میں فریقین کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا اہم ثالث ہے۔ حالیہ حملے میں حماس کے مذاکراتی وفد کے سربراہ خلیل الحیہ محفوظ رہے تاہم اسرائیل نے انہیں نشانہ بنایا تھا۔

روبيو کی آمد ایسے وقت میں ہوئی جب اسرائیل پر فوجی کارروائیوں میں شدت اور انسانی بحران کے باعث بین الاقوامی دباؤ بڑھ رہا ہے، اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کئی مغربی ممالک فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے جا رہے ہیں۔

اسی دوران اسرائیل اور اسپین کے تعلقات میں بھی کشیدگی پیدا ہوئی۔ اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر نے ہسپانوی وزیر اعظم پیدرو سانچیز کو "اسپین کے لیے باعث شرم" قرار دیا، بعد ازاں میڈرڈ نے تل ابیب سے اپنی سفیر کو مشاورت کے لیے واپس بلا لیا۔

اقوام متحدہ اور کئی عالمی فریقین نے اسرائیل کو خبردار کیا کہ غزہ میں جاری فوجی آپریشن اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی انسانی المیے کو سنگین بنا رہی ہے۔

یاد رہے کہ حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے حملے میں 1219 اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے، جبکہ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک تقریباً 65 ہزار فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق اب بھی 47 افراد غزہ میں قید ہیں جن میں سے 25 ہلاک ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں