اسرائیلی اندازے کے مطابق غزہ سے 4 لاکھ افراد کی نقل مکانی ... اسپتال "تباہی کے دہانے پر"
یورومیڈیٹرینیئن آبزرویٹری کے مطابق اسرائیل نے غزہ میں تقریباً 8 لاکھ فلسطینیوں کا بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع کر دیا ہے
غزہ شہر میں اسرائیل کی بڑی زمینی کارروائی جاری ہے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے آج جمعرات کے روز سامنے آنے والے تخمینے کے مطابق 4 لاکھ سے زیادہ فلسطینی شہری غزہ سے جنوبی علاقوں کی طرف نقل مکانی کر چکے ہیں۔ سیٹلائٹ تصاویر میں غزہ کی پٹی کے شمالی حصے میں پناہ گزین کیمپوں کی تعداد میں کمی دیکھی گئی ہے۔
يديعوت أحرونوت عن مسؤولة استخباراتية: تطويق الجيش الإسرائيلي لمدينة #غزة وإخلاء سكانها سيكتمل بحلول 6 أكتوبر المقبل#أخبار_الصباح #قناة_العربية pic.twitter.com/gm7S8qGuRO
— العربية (@AlArabiya) September 18, 2025
عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیدروس ادہانوم گبریوسس نے جمعرات کو خبردار کیا کہ غزہ کے اسپتال جو پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں، اب "تباہی کے دہانے" پر پہنچ چکے ہیں، کیونکہ شمالی غزہ میں اسرائیلی زمینی حملہ شدت اختیار کر چکا ہے۔ تیڈروس نے کہا کہ شمالی غزہ میں فوجی پیش قدمی اور انخلا کے احکامات نے نقل مکانی کی نئی لہر کو جنم دیا ہے۔ اس کے سبب پہلے ہی صدمے کا شکار خاندان مزید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ گبریوسس نے مزید کہا کہ "تشدد کی بڑھتی ہوئی صورت حال ہسپتالوں تک رسائی کو روک رہی ہے اور عالمی ادارہ صحت کو ضروری ساز و سامان پہنچانے سے محروم کر رہی ہے۔"
غزہ کے طبی ذرائع نے بتایا کہ پچھلے 24 گھنٹوں میں اسرائیلی فضائی حملوں میں 100 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فضائیہ نے غزہ شہر میں ایک ہتھیاروں کا گودام تباہ کیا، جس میں اس کی فوج کے خلاف استعمال کے لیے بم رکھے گئے تھے۔
The military incursion and evacuation orders in northern #Gaza are driving new waves of displacement, forcing traumatised families into an ever-shrinking area unfit for human dignity.
— Tedros Adhanom Ghebreyesus (@DrTedros) September 18, 2025
The injured and people with disabilities cannot move to safety, which puts their lives in grave… pic.twitter.com/d4WwjqWNrE
مقامی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے دوسرے روز بھی غزہ شہر کے تمام مواصلاتی رابطے منقطع کر دیے ہیں، جس سے طبی ٹیموں کو متاثرہ علاقوں تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اسی دوران العربیہ کے رپورٹروں نے بتایا کہ اسرائیلی فوج شمالی اور جنوبی محاذوں پر اپنی کارروائیوں کو تیز کر رہی ہے اور شمال مغربی غزہ میں ٹینکوں کی پیش قدمی بھی جاری ہے۔
عبرانی اخبار "یديعوت احرونوت" کے مطابق ایک اسرائیلی انٹیلی جنس اہل کار نے بتایا کہ فوج کے تخمینے کے مطابق غزہ شہر کا مکمل محاصرہ اور اس کے مکینوں کا جبری انخلا 6 اکتوبر تک مکمل ہو جائے گا۔ اس اہل کار کے مطابق شہر کے مکمل قبضے کی کارروائی اسی تاریخ کے بعد ممکن ہو سکے گی اور شہر میں 7500 مسلح موجود ہیں۔
یورومیڈیٹرینین ہیومن رائٹس آبزرویٹری نے بتایا کہ اسرائیل نے غزہ میں تقریبا 8 لاکھ فلسطینیوں کو دنیا سے الگ کر دیا ہے۔ مواصلاتی رابطے اور انٹرنیٹ کی خدمات منقطع کر دی گئی ہیں، جبکہ فوج کی پیش قدمی شمال مغربی علاقوں میں جاری ہے۔ اسرائیلی حملے اور عمارتوں و مواصلاتی ڈھانچے کی تباہی نے غزہ شہر کا مکمل "بلیک آؤٹ" کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں پچھلے دو دنوں میں 40 ہزار سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹيفن ڈوژارک نے کہا کہ غزہ میں صورت حال ہر گھنٹے بگڑ رہی ہے اور فوج نے آئندہ 48 گھنٹوں میں مزید جبری انخلاؤں کے احکامات جاری کیے ہیں۔ ڈوژارک نے کہا کہ اگست کے وسط سے اب تک تقریباً 2 لاکھ افراد جن میں زیادہ تر خواتین، بچے اور بزرگ ہیں، اپنے علاقوں سے نکلنے کے لیے کئی گھنٹے پیدل چلنے پر مجبور ہوئے۔ حملوں کی شدت کے باعث خواتین بغیر اسپتال، ڈاکٹر یا صاف پانی کے سڑکوں پر بچوں کو جنم دے رہی ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق تل ابیب نے واشنگٹن کو سرکاری طور پر آگاہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں عسکری کارروائی مزید بڑھا رہا ہے اور کسی معاہدے کے امکانات نہیں ہیں۔
اسرائیلی ویب سائٹ "ویلا" نے بتایا کہ فوج کی غزہ میں حکمت عملی تین غیر معمولی مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلے مرحلے میں حماس کے ڈھانچے کی مکمل تباہی اور رات کے وقت روبوٹوں کے ذریعے زمینی اور زیر زمین کارروائیاں ہوں گی۔ دوسرے مرحلے میں تیز رفتار فائرنگ کے اصول پر عمل جبکہ قبضہ آہستہ ہو گا۔ تیسرے مرحلے میں اعلیٰ سیکیورٹی کے تحت فوجی صلاحیتوں کا اجتماع ہو گا جو اب تک کے اسرائیلی جنگی ریکارڈ میں مثال نہیں رکھتا۔
یاد رہے کہ غزہ کی جنگ کا آغاز 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی جانب سے اسرائیلی بستیوں اور عسکری مقامات پر غیر معمولی حملے کے نتیجے میں ہوا۔ اس حملے میں 1219 ہلاکتیں ہوئیں جب کہ اسرائیل کی جانب سے جوابی حملوں کے نتیجے میں اب تک غزہ کی پٹی میں تقریباً 65 ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر شہری ہیں۔ بیس لاکھ سے زیادہ کی آبادی میں اکثریت نقل مکانی کر چکی ہے اور انسانی امداد محدود پیمانے پر پہنچ رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے اگست میں کہا تھا کہ غزہ میں قحط کا خطرہ موجود ہے، تاہم اسرائیل اسے مسترد کرتے ہوئے حماس پر امداد لوٹنے کا الزام لگاتا ہے۔