برطانوی اخبار "دی ٹائمز" نے خبر دی ہے کہ برطانیہ کے وزیر اعظم کیر اسٹارمر اس ہفتے کے اختتام پر فلسطین کو باضابطہ طور پر ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کریں گے۔ یہ اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے برطانیہ کے سرکاری دورے کے اختتام کے بعد متوقع ہے۔
کیر اسٹارمر نے یہ اعلان مؤخر کر دیا تاکہ جمعرات کو ہونے والی مشترکہ پریس کانفرنس میں یہ معاملہ غالب نہ آجائے۔
یاد رہے کہ وزیر اعظم اسٹارمر نے جولائی میں کہا تھا کہ اگر اسرائیل نے غزہ میں انسانی تکالیف کم کرنے اور حماس کے ساتھ جاری تقریباً دو سالہ جنگ میں جنگ بندی پر پیش رفت نہ کی تو لندن یہ قدم اٹھائے گا۔
ٹرمپ کا غیر معمولی دوسرا دورہ
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ جو اس وقت برطانیہ کے ایک اور غیر معمولی سرکاری دورے پر ہیں نے جولائی میں کہا تھا کہ انہیں برطانیہ کی اس اقدام پر کوئی اعتراض نہیں۔ تاہم بعد ازاں امریکہ نے واضح کر دیا کہ وہ اپنے یورپی اتحادیوں کی جانب سے اس طرح کے کسی فیصلے کی حمایت نہیں کرے گا۔
کیر اسٹارمر پر اپنی جماعت لیبر پارٹی کے اندر سے بھی دباؤ بڑھ رہا ہے، جہاں ایک تہائی وزراء فلسطین کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ 130 سے زیادہ ارکانِ پارلیمان اس مؤقف کے حق میں خط پر دستخط کر چکے ہیں۔
برطانیہ طویل عرصے سے خطے میں تنازعے کے حل کے لیے "دو ریاستی حل" کی پالیسی کی تائید کرتا رہا ہے، تاہم اس کا کہنا تھا کہ یہ اقدام "مناسب وقت" پر ہی ممکن ہے۔
اطلاعات کے مطابق برطانیہ کے ساتھ ساتھ فرانس، کینیڈا، آسٹریلیا اور دیگر کئی ممالک بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کریں گے۔
امریکی انتباہ
اس کے برعکس امریکی وزیر خارجہ مارکو رو بیو جو ٹرمپ کے ہمراہ لندن میں موجود ہیں نے اسرائیل کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطین کو تسلیم کرنے سے "قیام امن کے امکانات مزید کم ہوں گے" اور یہ اقدام مذاکرات کو مزید مشکل بنا دے گا۔ ان کے مطابق اس فیصلے پر اسرائیل کا ردعمل سخت ہوگا۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا حماس کے لیے "انعام" ہوگا۔
واضح رہے کہ جولائی کے آخر میں فرانسیسی صدر عمانویل میکرو ں اعلان کر چکے ہیں کہ ان کی حکومت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں فلسطین کو تسلیم کرے گی۔ اس کے بعد 12 سے زیادہ مغربی ممالک بھی فرانس کے نقشِ قدم پر چلنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔
سعودی عرب اور فرانس کی قیادت میں گذشتہ جون میں "دو ریاستی حل" کے لیے عالمی کانفرنس منعقد ہوئی تھی، جسے وسیع عالمی حمایت حاصل ہوئی۔ اس کانفرنس میں غزہ کے محاصرے اور فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی اقدامات کی مذمت کی گئی۔