سلامتی کونسل : غزہ کے حوالے سے نئی قرارداد پر رائے شماری آج ہو گی

مسودہ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ غزہ میں "فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی" کی جائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل آج جمعرات کے روز ایک بار پھر اس قرارداد پر رائے شماری کرے گی جس میں غزہ میں جنگ بندی اور محصور و تباہ حال علاقے میں انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اسہ تجویز کو زیادہ تر رکن ممالک کی حمایت حاصل ہے جو مسلسل 23 ماہ سے جاری جنگ کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں، اگرچہ امریکہ بار بار ویٹو استعمال کرتا آیا ہے۔

اگست کے آخر میں منتخب اراکین نے اس قرارداد پر بات چیت شروع کی تھی جب اقوام متحدہ نے با ضابطہ طور پر غزہ میں قحط کا اعلان کیا۔

ابتدائی مسودے میں امداد کی ترسیل کی تمام رکاوٹیں فوری طور پر دور کرنے کا مطالبہ شامل تھا۔ تاہم سفارتی ذرائع کے مطابق فرانس اور برطانیہ نے اس پر تحفظات ظاہر کیے کہ ایک خالصتاً انسانی بنیادوں پر فیصلہ، ایسی کونسل سے جو عالمی امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے بنی ہے، کس حد تک مؤثر ہوگا جبکہ امریکہ اسے ہر حال میں روک سکتا ہے۔

اسی لیے وہ مسودہ جس پر آج جمعرات کی دوپہر ووٹنگ ہو گی، امداد کی فراہمی پر عائد پابندیوں کے خاتمے کے ساتھ ساتھ غزہ میں "فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی" اور قیدیوں کی فوری و غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کرتا ہے۔

یاد رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر غیر معمولی حملے کے دوران 251 افراد کو قیدی بنایا گیا تھا، جن میں سے 47 اب بھی غزہ میں موجود ہیں، جبکہ اسرائیلی فوج کے مطابق ان میں 25 ہلاک ہو چکے ہیں۔

امریکہ اس سے پہلے بھی ایسی قراردادوں کو مسترد کر چکا ہے، جن میں آخری بار جون میں ویٹو استعمال کیا گیا تھا تاکہ اپنی اتحادی اسرائیل کو بچایا جا سکے۔ اسی پس منظر میں سوال اٹھتا ہے کہ موجودہ کوشش کس حد تک کامیاب ہو گی، کیونکہ اس کا انجام بھی پہلے جیسا ہونے کا خدشہ ہے۔

گزشتہ ویٹو کے بعد سلامتی کونسل کے باقی 14 اراکین میں غصہ اور مایوسی دیکھنے میں آئی تھی، جو اسرائیل پر دباؤ ڈالنے میں ناکامی کے باعث بڑھتی جا رہی ہے تاکہ غزہ کے عوام کی مشکلات ختم ہو سکیں۔

اسرائیل کو اب عالمی دباؤ کا سامنا ہے کہ وہ اس جنگ کو روکے جو حماس کے حملے کے بعد شروع ہوئی تھی۔ اس حملے میں اسرائیل کی جانب سے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 1,219 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس کے بعد اسرائیلی فوج کی شدید کارروائیوں میں تقریباً 65 ہزار فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔ یہ بات غزہ میں حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے اعداد و شمار میں بتائی گئی۔

اسی دوران غزہ کی پٹی کے 20 لاکھ سے زائد باشندوں کی بڑی اکثریت بے گھر ہو چکی ہے۔ جنگ کے آغاز سے اسرائیل نے علاقے کا محاصرہ کر رکھا ہے اور انسانی امداد بہت محدود پیمانے پر پہنچی ہے۔ اگرچہ مارچ 2025 میں سخت کیے گئے محاصرے میں مئی کے آخر میں کچھ نرمی کی گئی۔

اقوام متحدہ کے شراکتی ماہرین نے اگست میں تصدیق کی تھی کہ علاقے کے کچھ حصوں میں قحط واقع ہو چکا ہے، لیکن اسرائیل اس کی تردید کرتا ہے اور حماس پر امداد لوٹنے کا الزام لگاتا ہے۔

ادھر اقوام متحدہ کی ایک کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں اسرائیل پر غزہ میں "نسل کشی" کا الزام عائد کیا ہے، جسے اسرائیل نے "جانب دار اور گمراہ کن" قرار دیا۔

مزید یہ کہ 2024 میں بین الاقوامی فوجداری عدالت نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآف گیلنٹ کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں