اسرائیل عالمی رائے عامہ کے سامنے اپنی ساکھ تباہ کر رہا ہے : ماکروں

فرانسیسی صدر کے مطابق فلسطینی ریاست تسلیم کرنا حماس کو الگ تھلگ کرنے کا بہترین طریقہ ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے کہا ہے کہ غزہ میں شہریوں کی ہلاکتوں کے باعث اسرائیل عالمی رائے عامہ کے سامنے اپنی ساکھ کو مکمل طور پر تباہ کر رہا ہے۔

جمعرات کے روز اسرائیلی ٹی وی 'چینل 12' سے گفتگو کرتے ہوئے ماکروں نے کہا "اسرائیل نے کچھ نمایاں سیکیورٹی نتائج حاصل کیے ہیں، لیکن غزہ میں اس طرح کی کارروائیاں مکمل طور پر برعکس اثر ڈالتی ہیں اور مجھے کہنا پڑے گا کہ یہ ناکام ہیں"۔

اقتصادی پابندیاں

ماکروں نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل نے غزہ پر نیا حملہ جاری رکھا تو اس پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا امکان موجود ہے۔ انھوں نے اسرائیلی کارروائی کو "بہت بڑی غلطی" قرار دیا۔

فرانسیسی صدر نے کہا کہ "فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا محض یہ اعلان ہے کہ فلسطینی عوام کی جائز خواہشات اور ان کے موجودہ مصائب کا حماس سے کوئی تعلق نہیں"۔

ماکروں نے بتایا کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل اسرائیل آ کر اپنا موقف واضح کرنا چاہتے تھے، لیکن اسرائیلی حکام نے ان کی آمد کی اجازت نہیں دی۔ انھوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ وہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ "کام" جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

حماس کو الگ کرنا

فرانسیسی صدر نے زور دیا کہ "فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا حماس کو الگ تھلگ کرنے کا بہترین طریقہ ہے" جو "آپ کو تباہ کرنا چاہتی ہے"۔ ماکروں نے یہ بات اسرائیلی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہی۔

ماکروں کے مطابق "اسرائیلی حکومت خاص طور پر بعض وزراء کا موجودہ رویہ ... دو ریاستی حل کے کسی بھی امکان کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں