F-35 طیاروں کی خریداری کے لیے ایردوآن اور ٹرمپ کے مابین اہم رابطہ

امریکہ نے 2020 میں ترکیہ پر پابندیاں عائد کیں تھیں کیونکہ انقرہ نے 2019 میں روسی ساختہ میزائل شکن نظام S-400 خریدے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوآن امریکہ ساختہ ایف-35 لڑاکا طیاروں کی خریداری سے متعلق اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے جمعرات کے روز بات چیت کریں گے ۔

ایردوآن نے فوکس نیوز سے گفتگو میں کہا: "اب ہم اس معاملے پر دوبارہ مذاکرات کریں گے۔ ہمیں توقع ہے کہ امریکہ وہ کرے گا، جو اس کے حق میں بہتر ہے، چاہے وہ ایف-35 طیاروں کا معاملہ ہو یا ایف-16 طیاروں کی تیاری اور مرمت وغیرہ۔"

امریکہ نے 2020 میں نیٹو اتحاد کے اہم رکن ترکیہ پر پابندیاں عائد کیں تھیں کیونکہ انقرہ نے 2019 میں روسی ساختہ میزائل شکن دفاعی نظام S-400 خریدے تھے۔ اس کے بعد امریکہ نے ترکیہ کو ایف-35 طیاروں کے پروگرام سے نکال دیا تھا، جس میں وہ نہ صرف تیاری میں شریک تھا بلکہ خریداری بھی کر رہا تھا۔

تاہم، واشنگٹن نے طویل انتظار کے بعد ترکیہ کی درخواست منظور کی، جس کے تحت انقرہ نے 100 ایف-35 طیارے خریدنے کے لیے 1.4 ارب ڈالر ادا کیے اور طیاروں کے جدید آلات حاصل کرنے کی اجازت ملی۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ صرف 20 ممالک کے پاس ایف-35 لڑاکا طیارے ہیں، جو دنیا کے سب سے جدید لڑاکا طیاروں کی خصوصیات سے استفادہ کر سکتے ہیں، جن میں امریکہ اور اس کے 19 قریبی اتحادی شامل ہیں۔

اس کلب کے رکن ممالک میں آسٹریلیا، جنوبی کوریا، برطانیہ، اسرائیل اور اٹلی شامل ہیں۔ نیوز ویک امریکی میگزین کے مطابق، اس کلب کی رکنیت حاصل کرنا واشنگٹن کے ساتھ باہمی اعتماد کا مضبوط ثبوت سمجھا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں