ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے منگل کے روز دنیا کے ممالک پر زور دیا کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں۔ ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب بعض مغربی طاقتوں نے فلسطین کے حق میں اقدامات کیے۔ انہوں نے غزہ میں فوری جنگ بندی پر بھی زور دیا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایردوآن نے کہا کہ "میں ان تمام ممالک کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا۔ ان ممالک سے اپیل کرتا ہوں جنہوں نے ابھی تک یہ قدم نہیں اٹھایا کہ وہ فوری طور پر ایسا کریں۔ اقوام متحدہ کا بنیادی مقصد، جیسا کہ اس کے چارٹر میں درج ہے، دنیا میں امن و سلامتی کا قیام ہے"۔
انہوں نے کہا کہ "جی ہاں جب ہم اقوام متحدہ کے قیام کی 80ویں سالگرہ منا رہے ہیں تو دنیا کے مختلف حصوں میں سنگین واقعات رونما ہو رہے ہیں جو اس چارٹر کے ابتدائی الفاظ کو دھندلا رہے ہیں۔ بالخصوص غزہ میں، نسل کشی ہمارے سامنے 700 دن سے زیادہ عرصے سے جاری ہے۔ یہاں تک کہ جب ہم یہ اجلاس کر رہے ہیں، غزہ میں شہریوں کے قتل عام کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ غزہ میں اب تک جاں بحق ہونے والے شہریوں کی تعداد 65 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے"۔
ایردوآن نے کہا کہ "اسرائیل گذشتہ 23 ماہ سے غزہ میں ہر گھنٹے ایک بچے کو قتل کر رہا ہے"۔
یاد رہے کہ فرانس اور کئی دیگر ممالک نے پیر کے روز اقوام متحدہ کے فورم پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا، جسے غزہ کی جنگ کے خاتمے کے لیے اسرائیل پر دباؤ بڑھانے کی تاریخی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس میں دنیا کے لگ بھگ 200 سربراہان مملکت و حکومت، سینکڑوں وزراء، ہزاروں سفارت کار، بڑی تعداد میں صحافی اور سول سوسائٹی کے نمائندے شریک ہیں۔
قبل ازیں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے اپنے خطاب میں کہا کہ غزہ میں ہولناک واقعات بدستور جاری ہیں اور قتل و غارت کی حدیں پار ہو چکی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ دو ریاستی حل ہی امن کا واحد راستہ ہے۔
گوتیریس نے مزید کہا کہ امن کی بنیادیں سزا سے بچنے کے رجحان کی وجہ سے کمزور ہو رہی ہیں اور بعض ممالک کی جانب سے عالمی معاہدوں کی خلاف ورزیوں کے باعث جنگوں میں شدت آ رہی ہے۔