متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کے ہمالیائی علاقے لداخ میں بھارت کی سیکیورٹی فورسز نے فائرنگ کر کے کم از کم 4 افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔ جبکہ متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔
مظاہرین ریاستی خودمختاری کے لیے خصوصی آئینی حیثیت کے علاوہ روزگار میں مقامی شہریوں کے لیے کوٹہ مخصوص کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ جنہیں پولیس نے روکنے کی کوشش کی اور تصادم ہوگیا۔ اس دوران 4 مظاہرین ہلاک ہوگئے۔
لداخ کا علاقہ بدھ کمیونٹی کے علاوہ مسلمانوں کی آبادی پر مشتمل ہے۔ جس کی آئین میں دی گئی خصوصی حیثیت کو 15 اگست 2019 کو مودی سرکار نے ختم کر دیا تھا اور متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کے تمام علاقوں کو براہ راست مرکز کے کنٹرول میں دے دیا تھا۔
بدھ کے روز مظاہرین نے سیاسی کارکن سونم وانگ چیک کی قیادت میں مظاہرہ کیا۔ یہ مظاہرین مطالبہ کر رہے تھے کہ لداخ کی خصوصی حیثیت بحال کی جائے اور لداخ کے عوام کے لیے مقامی منتخب باڈیز کی سہولت پیدا کی جائے تاکہ وہ اپنے علاقے کے مسائل کو حل کر سکیں اور قبائل کے مفادات کا تحفظ کر سکیں۔
معلوم ہوا ہے کہ لیہہ شہر میں بی جے پی کے کارکن مبینہ طور پر دنگا کرنے کے لیے نکل آئے اور انہوں نے کئی عمارتوں کو آگ لگا دی۔
'اے این آئی' اور 'روئٹرز' کے مطابق یہ عمارتیں اقلیتی آبادی کی ملکیت تھیں۔ آگ لگنے کے بعد کئی جگہوں پر دھواں اٹھتا ہوا دیکھا گیا۔ جبکہ سینکڑوں لوگ نعرہ زنی کرتے ہوئے دیکھے گئے۔
بھارتی ٹی وی چینلز کے مطابق پولیس گاڑی کو بھی آگ لگا دی گئی۔ جبکہ بعض نوجوانوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔ جنہیں روکنے کے لیے ہولیس نے آنسو گیس اور اسلحہ استعمال کیا۔
نتیجتاً 50 لوگ زخمی ہوئے جن میں 20 کے قریب پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
یاد رہے بنگلہ دیش اور نیپال کے حالیہ واقعات کے بعد لداخ میں اپنے مستقبل سے مایوس نوجوانوں نے بھی احتجاج کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ ان کا احساس محرومی ہی انہیں گلی محلوں میں احتجاجی مظاہروں کی طرف لے کر آیا ہے۔
سونم وانگ چیک نے ان مظاہروں کے بارے میں تقریر کرتے ہوئے کہا یہاں کے نوجوان تشدد نہیں چاہتے تھے لیکن انہیں اس پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
وانگ چیک نے پچھلے 15 روز سے جاری اپنی بھوک ہڑتال کے خاتمے کا بھی اعلان کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ہمارے نوجوان پریشان ہیں اور تکلیف میں ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا علاج محض بھوک ہڑتال کرنا نہیں ہے۔ اس لیے میں آج سے بھوک ہڑتال ختم کرتا ہوں۔
لداخ میں لیفٹیننٹ گورنر کے دفتر نے ان واقعات پر تبصرہ کرنے کی درخواست پر جواب نہیں دیا ہے۔
مظاہرین کے اکٹھا ہونے پر اور اشتعال انگیز تقاریر کرنے پر ضلعی انتظامیہ نے پابندی عائد کر دی ہے۔ تاکہ امن و امان قائم رکھا جا سکے۔
یاد رہے لداخ کا یہ علاقہ ہمالیائی پٹی پر چین کی سرحد سے جڑا ہوا ہے۔ اس لیے بھارت کے لیے یہ مظاہرے اور زیادہ حساسیت کا باعث بن رہے ہیں۔
-
فٹ پاتھ پر زچگی پر مصری خاتون سے ہمدردی، حکومت و شوہر پر غم وغصہ
خاتون شدید کمزوری اور خون بہنے کی حالت میں اپنے نوزائیدہ اور ایک اور بچے کے ساتھ ...
بين الاقوامى -
افغانستان عالمی برادری سے کٹا ہوا نہیں رہ سکتا : پاکستان
پاکستانی وزیر خارجہ نے افغانستان میں "دہشت گردی کے خطرات" کے خلاف اقدامات پر زور ...
بين الاقوامى -
طالبان سربراہ نے بگرام اڈے کے حوالے سے ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے : العربیہ ذرائع
اس سے قبل ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر افغانستان اڈا دینے پر آمادہ نہ ہوا تو اسے ...
بين الاقوامى