افغانستان عالمی برادری سے کٹا ہوا نہیں رہ سکتا : پاکستان

پاکستانی وزیر خارجہ نے افغانستان میں "دہشت گردی کے خطرات" کے خلاف اقدامات پر زور دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے اجلاس میں علاقائی تعاون کو فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ "افغانستان میں دہشت گردی" استحکام کے لیے خطرہ ہے اور اس کے تدارک کے لیے فوری اور مشترکہ اقدامات ضروری ہیں۔

انھوں نے افغانستان میں موجود "دہشت گرد گروہوں" پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ خطرہ علاقائی استحکام کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ وہ او آئی سی کے افغانستان سے متعلق رابطہ گروپ کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ یہ بات افغان خبر ایجنسی "خاما پریس" نے بتائی۔

پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے اپنے بیان میں دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا اور امن کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرنے کی اپیل کی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ "افغانستان بین الاقوامی برادری سے کٹا ہوا نہیں رہ سکتا"۔ انھوں نے مشترکہ سکیورٹی و اقتصادی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مزید مکالمے اور تعاون پر زور دیا۔

اسحاق ڈار نے یہ بھی تجویز دی کہ او آئی سی میں ماہرین پر مشتمل ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائے جو امن کے لیے نقشہ راہ تیار کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ "پائے دار استحکام کے لیے خلوص، باہمی احترام اور سیاسی عزم ضروری ہیں"۔

پاکستانی وزیر خارجہ نے ایک بار پھر افغانستان میں امن یقینی بنانے کے لیے اجتماعی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا اور "انتہا پسندی اور بد امنی کا مقابلہ کرنے کے لیے مربوط علاقائی حکمتِ عملی" اپنانے پر زور دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں