یوکرینی صدر ولودی میر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ اگر چین چاہے تو وہ روس کو یوکرین میں جنگ ختم کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ انھوں نے یہ بات منگل کی شام اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہی۔
یوکرینی صدر نے کہا "چین کے بغیر، ولادی میر پوتین کے روس کی کوئی حیثیت نہیں، لیکن اس کے باوجود چین اکثر خاموش رہتا ہے اور خود کو الگ رکھتا ہے بجائے اس کے کہ امن کے لیے کام کرے۔"
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہی چین کے نائب مندوب گنگ شوانگ نے کہا "بحران کے پہلے دن سے چین نے ایک غیر جانب دار اور معروضی موقف اپنایا ہے، جنگ بندی کی اپیل کی ہے اور سیاسی حل کے مقصد سے امن مذاکرات کا دفاع کیا ہے۔"
زیلنسکی نے اپنی تقریر میں امریکا کی حمایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ یوکرین حکومت "امریکی صدر کی تمام تجاویز کو تسلیم کر چکی ہے جن کا مقصد جنگ بندی اور روس کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے امن قائم کرنا ہے۔"
انھوں نے مزید کہا "ہم روس کو امن پر مجبور کرنے کے لیے امریکا کی عملی کوششوں پر انحصار کرتے ہیں۔ ماسکو امریکا سے ڈرتا ہے اور اس کی بات سنتا ہے۔"
ایک غیر متوقع موقف میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ یوکرین روس کے خلاف جنگ جیتنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ ان کا کہنا تھا کہ یوکرینی اپنے پورے ملک پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں "اور شاید اس سے بھی آگے بڑھ جائیں!"