غزہ بھر میں 170 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا ہے:اسرائیلی فوج

اسرائیلی فوج کے ترجمان اَفیخائے اَدرعی نے بتایا ہے کہ ان اہداف میں فوجی عمارتیں اور اسلحہ کے ذخائر بھی شامل ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ فضائیہ نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ کے مختلف علاقوں میں 170 سے زیادہ مقامات پر حملے کیے۔

فوج کے ترجمان اَدرعی نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر بتایا کہ ان حملوں میں مسلح افراد، فوجی تنصیبات، اسلحہ کے گودام اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ جنوبی کمان کی اسرائیلی افواج، فوجی انٹیلی جنس اور شاباک (خفیہ ادارے) کی ہدایت پر غزہ بھر میں مسلح عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 162 ویں بریگیڈ کے دستے غزہ شہر کے اندرونی علاقوں میں لڑائی جاری رکھے ہوئے ہیں اور انہوں نے ایسی تنصیبات کو تباہ کیا ہے جو اسرائیلی فوج پر گھات لگا کر حملے کرنے کے لیے استعمال ہو رہی تھیں۔

اَدرعی کے مطابق 98 ویں بریگیڈ نے بھی تقریباً 20 اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں مسلح افراد اور ایک اسلحہ خانہ شامل ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بدھ کے روز اس بریگیڈ نے ایک ایسے حملہ آور کو ہلاک کیا جو بارودی مواد سے لیس تھا اور فوری طور پر فوج پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

غزہ شہر کے "صفایا" کی کارروائی

ترجمان نے کہا کہ 36 واں بریگیڈ غزہ شہر میں "صفایا" کی کارروائی کر رہا ہے اور زمین کے اوپر اور زیرِ زمین بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر رہی ہے۔ اس دوران کئی مسلح افراد کو ہلاک کیا گیا اور انجینئرنگ کی کارروائی کے تحت مزید تنصیبات بھی تباہ کی گئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ 99 ویں بریگیڈ شمالی غزہ میں انہدامی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور ایک ایسے مقام کو تباہ کیا ہے جہاں بارودی مواد کے ساتھ گھات لگا کر حملہ کرنے کا انتظام کیا گیا تھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ 143 ویں بریگیڈ نے بھی گذشتہ 24 گھنٹوں میں متعدد ایسے افراد کو ہلاک کیا جو فوج کے قریب آ گئے تھے اور براہِ راست خطرہ بن رہے تھے۔

دوسری جانب غزہ کے طبی ذرائع نے اطلاع دی کہ جمعرات کی صبح سے اسرائیلی فضائی حملوں میں 25 افراد جاں بحق ہوئے۔

شمالی غزہ سے بے گھر فلسطینی 25 ستمبر کو جنوب کی طرف بڑھ رہے ہیں (رائٹرز)

7 لاکھ بے گھر

اسرائیلی سکیورٹی ذرائع نے بدھ کو بتایا کہ غزہ شہر پر زمینی حملے کے نتیجے میں لاکھوں فلسطینیوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا، اور صرف ایک دن میں ہزاروں افراد نے شہر چھوڑ دیا۔

ذرائع کے مطابق شہر میں بے گھر افراد کی مجموعی تعداد تقریباً 7 لاکھ تک جا پہنچی ہے، جبکہ منگل کو یہ تعداد لگ بھگ 6 لاکھ 40 ہزار تھی۔

اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف، ایال زامیر نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ حماس سے اپنا تعلق ختم کر لیں۔ ان کے مطابق "اگر یہ تنظیم قیدیوں کو رہا کر دے اور اپنے ہتھیار ڈال دے تو جنگ اور تکالیف ختم ہو جائیں گی۔"

فوجی ذرائع کے مطابق زامیر نے کہا کہ غزہ شہر میں جاری حملے قیدیوں کی رہائی اور حماس کی شکست کے لیے حالات سازگار بنا رہے ہیں۔

دریں اثنا اسرائیلی قیدیوں کے لواحقین نے فوجی کارروائی تیز ہونے کے باعث ان کی سلامتی پر بڑھتی ہوئی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

غزہ میں اب بھی تقریباً 45 اسرائیلی قیدی موجود ہیں، جن میں سے تقریباً نصف مارے جا چکے ہیں، جیسا کہ اسرائیلی اندازوں میں کہا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں