شام کے لیے امریکی خصوصی ایلچی ٹوم براک نے کہا ہے کہ امریکہ "لبنان میں ریاست کی ازسرنو تعمیر اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن قائم کرنے کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا"۔
انھوں نے "ایکس" پر جاری اپنے بیان میں مزید کہا کہ ان کا ملک "اسرائیل کے ساتھ معاہدے پر عمل درآمد اور حزب اللہ کے ہتھیار چھیننے کے لیے لبنان کی حمایت جاری رکھے گا"۔
یہ موقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حزب اللہ آج سہ پہر اپنے دو سیکریٹری جنرل حسن نصراللہ اور ہشام صفی الدین کے قتل کی پہلی برسی پر تقاریب منعقد کرنے جا رہی ہے۔ تنظیم تقریباً ایک سال تک جاری اسرائیل کے ساتھ طویل خون ریز جنگ کے بعد کمزور ہو گئی تھی۔ یہ جنگ نومبر 2024 کے آخر میں جنگ بندی معاہدے کے ساتھ ختم ہوئی، جو 28 نومبر سے نافذ ہے۔
The USA continues to support Lebanon’s endeavor to rebuild its own state, find peace with its neighbors, and continue its quest for resolution of its recently signed cessation of hostilities agreement in November of 2024, including the disarmament of Hizballah.
— Ambassador Tom Barrack (@USAMBTurkiye) September 25, 2025
اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ
براک کے اس بیان سے چند روز قبل لبنانی صدر جوزف عون نے "اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں موجود عالمی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ بین الاقوامی قراردادوں کی خلاف ورزیوں کو روکنے اور اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے لیے اپنی بھرپور کوششیں کریں تاکہ لبنانی سرزمین سے اسرائیل کا انخلا عمل میں آئے"۔
اسی طرح لبنانی وزیر اعظم نواف سلام نے بھی چند دن قبل معاہدہ جنگ بندی کے ضامن ممالک سے کہا تھا کہ "وہ اسرائیل پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالیں تاکہ وہ اپنی جارحیت فوری بند کرے، لبنانی مقبوضہ علاقوں سے انخلا کرے اور قیدیوں کو رہا کرے"۔
لبنانی حکومت نے اگست میں حزب اللہ کو سال کے اختتام تک غیر مسلح کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ فیصلہ امریکی دباؤ اور اسرائیل کی جانب سے حملے بڑھانے کی دھمکیوں کے بعد کیا گیا۔ وزیر خارجہ یوسف رجی نے وضاحت کی تھی کہ فوج کے تیار کردہ منصوبے کے مطابق اسرائیل کی سرحدی پٹی سے ملحقہ علاقوں میں تین ماہ کے اندر اندر یہ عمل مکمل کر لیا جائے گا۔
لبنانی فوج نے تصدیق کی کہ اس مقصد کے لیے منصوبہ تیار ہے، مگر ساتھ ہی خبردار کیا کہ اسرائیلی افواج کی مسلسل موجودگی اور حملے اس کے نفاذ میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔
نومبر کی جنگ بندی کے بعد سے اسرائیلی افواج تقریباً روزانہ کی بنیاد پر جنوبی لبنان میں حملے اور فضائی کارروائیاں کر رہی ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ حزب اللہ کو نشانہ بنا رہی ہیں۔
اسرائیل نے اب تک لبنان کی پانچ اسٹریٹجک پہاڑی چوٹیوں سے انخلا کرنے سے بھی انکار کر رکھا ہے، جو دونوں جانب کی سرحد پر نگرانی کے لیے اہم ہیں۔