شام کے لیے بڑا اعلان کر سکتے ہیں، ترکیہ کو ایف 35 مل سکتے ہیں مگر روسی تیل بند کرے : ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

امریکی صدر نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ وہ سوچتے ہیں کہ غزہ کے لیے جنگ بندی معاہدہ اب قریب آگیا ہے۔ انہوں نے اس امر کا اظہار جمعرات کے روز ترکیہ کے صدر طیب ایردوان سے وائٹ ہاوس میں ہونے والی ملاقات کے بعد کیا ہے۔

انہوں نے اس ملاقات میں جو وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں ہوئی صدر ایردوآن سے کہا ہے ان سے اسرائیلی ریاست کے وزیر اعظم نیتن یاہو بھی ملاقات کرنے آرہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں اب اسے ختم کر سکتے ہیں ، بہت زیادہ لوگ مر رہے ہیں لیکن ہماری خواہش ہے کہ پہلے اسرائیلی قیدی رہا ہوں اور گھروں کو واپس جائیں۔

اس موقع پر ٹرمپ نے کہا وہ شام کے بارے میں بھی ایک بڑا اعلان کرنے والے ہیں کیونکہ وہ شام کے سلسلے میں فکر مندی رکھتے ہیں لیکن اس موقع پر شاید یہ مناسب نہیں کہ اس اعلان کی تفصیل میں جائیں کہ اعلان کیا ہوگا اور اس کا مطلب کیا ہوگا۔

انہوں نے رپورٹرز کے شام کے بارے میں سوال پر کہا شام سے پابندیاں اٹھائی جانی چاہییں کیونکہ شام پر کافی سخت پابندیاں عائد ہیں۔ لیکن میرا خیال ہے آج ہمیں پہلے بڑا اعلان کرنا ہوگا۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا امریکہ ترکیہ پر عائد پابندی اٹھا سکتا ہے اور ترکیہ کو ایف 35 طیارے دینے کی اجازت دے سکتا ہے۔ لیکن میں چاہتا ہوں کہ ترکیہ روس سے تیل کی خریداری بند کردے۔

ترکیہ کے صدر طیب ایردوآن کا پچھلے چھ برسوں کے وقفے کے بعد وائٹ ہاؤس کا یہ پہلا دورہ ہے۔ بلاشبہ یہ پیش رفت ہے اور ایسے وقت میں پیش رفت ہے جب ترکیہ امریکہ سے جہاز خریدنے کی ڈیل کے لیے بے چین ہے اور ٹرمپ ترکیہ سے روس کے تیل کی خریداری رکوانا چاہتے ہیں۔ مگر یہ ساری پیش رفت کئی اگر مگر کے ساتھ ہے جیسا کہ صدر ٹرمپ کی ساری گفتگو میں اگر مگر نظر آرہے ہیں۔

اپنے پہلو میں بیٹھے ایردوآن کو ٹرمپ نے بہت مشکل انسان قرار دیا اور کہا میں چاہتا ہوں کہ ترکیہ روس سے تیل کی خریداری بند کر دے۔

واضح رہے روسی تیل کے بڑے یورپی خریداروں میں ترکیہ، ہنگری اور سلوواکیہ شامل ہیں۔ ٹرمپ انہیں اس سے روکنا چاہتا ہے۔ امریکہ کو اس سلسلے میں بھارت کو منع کرنے میں کامیابی نہ ملنے کا رنج بھی موجود ہے۔ اس لیے ٹرمپ اس سلسلے میں کسی ملک پر خود کو اثر انداز ہوتا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ایردوآن سے ہونے والی گفتگو کے بارے میں کہا میں نے کہا ہے کہ روس سے تیل کی کسی بھی قسم کی خریداری روکیں۔ کیونکہ روس یوکرین میں چڑھائی جاری رکھے ہوئے ہے۔

ایف 35 طیاروں کی ترکیہ کو فروخت کی ڈیل کے بارے میں ایک سوال پر صدر ٹرمپ نے کہا میرا خیال ہے کہ وہ جو چیزیں خریدنا چاہتے ہیں لے سکیں گے۔ اسی طرح ہم بھی بہت جلد ترکیہ سے پابندیاں اٹھا سکتے ہیں۔ لیکن یہ تبھی ہوگا جب ہمارے درمیان بہت ہی جلد ایک اچھی ملاقات ہوجائے۔

انہوں نے کہا وہ اوول آفس میں دوپہر کے کھانے کے بعد اہم امور پر بات چیت کریں گے۔

سابق امریکی صدر جوبائیڈن نے ترکیہ کو مقابلتاً قدرے فاصلے پر رکھنے لیے حکمت عملی اختیار کی تھی۔ وجہ روس کے ساتھ اس نیٹو ملک کے تعلقات ہی تھے۔

لیکن ٹرمپ جو اگرچہ روس کو زیادہ اچھا سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے صدر ایردوآن کے ساتھ قریبی ذاتی تعلقات رکھنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ ترکیہ بھی ان سے بہتر تعلقات کی امید کر رہا ہے۔

جیسا کہ ریپبلکن صدر ٹرمپ کی پہلی صدارتی مدت کے دوران ٹرمپ اور ایردوآن کے تعلقات خوشگوار رہے تھے۔

ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں ان کی واپسی کے بعد سے، ان کے مفادات شام پر جڑ گئے ہیں - جو ماضی میں دوطرفہ تناؤ کا ذریعہ تھا -

امریکہ اور ترکیہ دونوں اب شام کی مرکزی حکومت کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ وہیں غزہ پر امریکی اتحادی اسرائیل کے حملوں پر شدید اختلافات ہیں۔ ترکیہ غزہ میں جاری فلسطینیوں کے قتل عام کو نسل کشی قرار دیتا ہے۔ اس ماحول میں اوول آفس میں دوستانہ تعلقات اور کچھ لین دین کی بات چیت کی گئی یے۔

ترکیہ کو ایف 35 کی فروخت پر پابندی

عمومی توقع کی جارہی ہے کہ ایردوآن اور ٹرمپ کے درمیان ایک دوسرے کی تعریفوں اور خوشگوار جملوں کے ماحول میں اوول آفس کی ملاقات کافی مفید رہے گی اور ترکیہ کو جہازوں کی فراہمی پر عائد پابندی اٹھا دی جائے گی۔ جس سے 2020 کے مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں تر کیہ لاک ہیڈ مارٹن کے تیار کردہ جدید F-35 لڑاکا طیارے خریدنے کی راہ آسان ہو جائے گی۔

ایردوآن نے کہا ہے کہ دفاعی صنعت، بشمول F-35s کا موضوع اور 40 F-16 طیاروں پر بھی مذاکرات چاہتے ہیں۔

ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ واشنگٹن نے حالیہ دنوں میں ترکیہ کو متعدد ہتھیار فروخت کرنے کے لیے ایک بیان تیار کیا تھا۔ عہدیدار نے بتایا کہ ترکیہ نے اپنے آرڈر میں F-16 طیاروں میں جدید آلات اور ترمیم کی درخواست بھی کر رکھی ہے۔

اس نے مزید کہا کہ F-35 طیاروں کو بیان کے مسودے سے اس لیے نکال دیا گیا تھا گیا کہ جب تک ترکیہ کے پاس ایس یو 400 سسٹم ہے، امریکہ قانونی طور پر ترکیہ کو ایف 35 فروخت نہیں کر سکتا ہے۔

خیال رہے ترکیہ نیٹو کی دوسری سب سے بڑی فوج ہے۔ وہ مشرق وسطیٰ، مشرقی بحیرہ روم اور بحیرہ اسود میں بڑھتے ہوئے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی فضائی قوت بڑھانا چاہتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں