کولمبیا کے صدر گسٹاو پیٹرو کے رویے نے امریکہ کو ناراض کر دیا، جس کے بعد امریکی محکمہ خارجہ نے ان کا ویزا منسوخ کر دیا۔
ویزہ منسوخی کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ کولمبیا کے صدر گسٹاوو پیٹرو نے نیویارک میں جمعہ کے روز ایک خطاب کیا جس میں وہ امریکی فوجیوں کو حکم ماننے سے انکار کرنے کی ترغیب اور تشدد پر اکسانے کے اشارے دے رہے تھے۔
محکمہ نے آج ہفتے کے روز "ایکس" پر اپنے ایک پیغام میں لکھا: "ہم پیٹرو کا ویزا ان کی بے احتیاطی اور اشتعال انگیزی کی وجہ سے منسوخ کر دیں گے۔"
یہ سب اس کے بعد ہوا جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میںمیں شرکت کے لیے نیویارک میں موجود پیٹرو نے یو این کے دفتر کے سامنے جمع ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا:"میں امریکی فوج کے تمام سپاہیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنی بندوقیں لوگوں کی طرف نہ کریں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے احکام کی پیروی نہ کریں بلکہ انسانیت کے احکام کی پیروی کریں!"
پیٹرو نےنیویارک میں فلسطینی حامی مظاہرین کے اجتماع سے خطاب کی اپنی چند ویڈیوز دوبارہ شائع کیں۔ اور انہوں نے سائٹ "ایکس" پر لکھا: "فلسطین کو آزاد کرو۔ اگر غزہ کا سقوط ہوا تو انسانیت مر جائے گی۔"
Dijo usted Victoria que yo estaba del lado del mal, y usted, en cambio, se puso al lado de genocidas. Yo no. Yo los combato desde donde esté https://t.co/0zdqU2mspO
— Gustavo Petro (@petrogustavo) September 27, 2025
گذشتہ منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اپنے خطاب میں پیٹرو نے ٹرمپ پر بھی شدید تنقید کی، اور کہا کہ امریکی صدر "غزہ میں نسل کشی میں شریک ہے"۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کیریبین سمندر میں مشتبہ منشیات اسمگلنگ کے لیے استعمال ہونے والی کشتیوں پر امریکی میزائل حملوں کے سلسلے میں "فوجداری کارروائی" کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے دو ہفتے قبل فلسطینی صدر محمود عباس اور ان کے ہمراہ وفد کا نیویارک کے لیے ویزا بھی منسوخ کر دیا تھا۔