اسرائیلی ریاست جس نے ماہ جون میں ایران پر 12 دنوں کے لیے جنگ مسلط کی تھی اور ایرانی جوہری تنصیبات، آئل تنصیبات، جوہری سائنسدانوں اور فوجی حکام کو بطور خاص ٹارگٹ کر کے بمباری کی تھی۔ اس نے قرار دیا ہے کہ اقوام متحدہ کی طرف سے ایران پر پابندیوں کا عائد کیا جانا ایک بڑی پیش رفت ہے۔
یہ بات اسرائیلی وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر جاری کیے گئے ایک بیان میں کہی ہے۔
برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایرانی جوہری پروگرام کے سلسلے میں معاہدہ 2015 کی خلاف ورزی کرنے پر 'سنیپ بیک' پابندیوں کے سلسلے میں اقوام متحدہ سے رجوع کیا تھا۔ تاکہ ایران کے گرد گھیرا تنگ کیا جاسکے۔ کیونکہ جوہری معاہدہ 2015 میں اس کی گنجائش رکھی گئی تھی کہ ایران پر دوبارہ سے پابندیاں لگانا پڑیں تو اقوام متحدہ کا ادارہ اس میں بڑی طاقتوں کو ایران کے خلاف مدد فراہم کرے۔
-
ایران پر دوبارہ عائد کی جانے والی [سنیپ بیک] پابندیوں کی تفصیلات جانیے!
اتوار کی صبح ایران پر اس کے جوہری پروگرام کے پس منظر میں اقوامِ متحدہ کی طرف سے ...
بين الاقوامى -
ایران کا یو این سیکرٹری جنرل سے سنیب بیک پابندیوں کا نفاذ روکنے کا مطالبہ
ایرانی وزیر خارجہ نے مغربی ممالک اور امریکہ پر تہران سے بلیک میلنگ کرنے کی کوشش کا ...
بين الاقوامى -
اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ عائد ، ایرانی ریال کی قدر ڈالر کے مقابلے میں کم ترین سطح پر
ایک ڈالر کی قیمت 11 لاکھ 20 ہزار ریال تک پہنچ گئی
بين الاقوامى