نیتن یاہو کی ٹرمپ سے ملاقات سے قبل ... سموٹرچ نے "سرخ لکیروں" کا تعین کر دیا
ٹرمپ کے منصوبے میں مستقل فائر بندی ، قیدیوں کی رہائی اور غزہ سے اسرائیلی انخلا شامل ہے
دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے انتہا پسند اسرائیلی وزیر خزانہ بتسلئیل سموٹرچ نے زور دیا ہے کہ فوج کو "مکمل آزادی حاصل ہونی چاہیے تاکہ وہ غزہ کی پٹی میں اپنی کارروائیاں جاری رکھ سکے"۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان متوقع ملاقات ہونے والی ہے۔
ٹرمپ اسرائیلی وزیر اعظم کی وائٹ ہاؤس میں میزبانی کریں گے، جہاں امکان ہے کہ وہ ان پر زور ڈالیں گے کہ وہ امریکی صدر کے امن منصوبے کی منظوری دیں۔
پیر کو "ایکس" سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک طویل پوسٹ میں سموٹرچ نے ملاقات سے پہلے اپنی "سرخ لائنیں" واضح کیں، جن میں شامل تھا کہ "حماس کو غزہ سے مکمل اور حقیقی طور پر پسپائی اختیار کرنی ہو گی"۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ "فوج فلاڈلفیا راہ داری سمیت حفاظتی علاقے میں ہمیشہ موجود رہے اور اسے غزہ کے پورے علاقے میں کارروائی کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہو"۔
فلاڈلفیا راہ داری غزہ اور مصر کے درمیان ایک سرحدی پٹی ہے، جو تقریباً 13 کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہے۔ اسرائیل اس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے پر زور دیتا ہے تاکہ فلسطینی علاقوں میں ہتھیاروں کی اسمگلنگ روکی جا سکے۔
ایک سفارتی ذریعے کے مطابق ٹرمپ کا 21 نکاتی منصوبہ مستقل جنگ بندی، قیدیوں کی رہائی، اسرائیلی فوج کا غزہ سے انخلا اور انسانی امداد کی بڑے پیمانے پر ترسیل پر مشتمل ہے۔
سموٹرچ نے رام اللہ میں واقع فلسطینی اتھارٹی کے، غزہ کے انتظام میں مستقبل میں کسی کردار کو بھی مسترد کر دیا۔ یہ بات ٹرمپ کے امن منصوبے کے سب سے متنازع پہلوؤں میں سے ایک ہے۔
حماس کے 2007 میں غزہ پر قبضہ کرنے سے قبل فلسطینی اتھارٹی وہاں حکمرانی کر رہی تھی۔ نیتن یاہو بھی مستقبل میں اس کے حصہ لینے کے خیال کو مسترد کر چکے ہیں۔
حال ہی میں اسرائیل نے امریکی حلیف اور غزہ مذاکرات کے مرکزی ثالث قطر پر فضائی حملہ کیا، جس میں حماس کے مذاکراتی وفد کو جس کی قیادت خلیل الحیہ کر رہے تھے، نشانہ بنایا گیا۔
سموٹرچ نے یہ بھی کہا کہ فلسطینی ریاست کا کوئی ذکر، حتیٰ کہ بالواسطہ بھی نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اس سے اسرائیل کے وجود کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ یہ "تاریخی موقع" ہو گا کہ عملی اور سیاسی طور پر ثابت کیا جائے کہ یہودا اور سامریہ اسرائیلی ریاست کا لازمی حصہ ہیں۔ اسرائیلی وزیر توراتی اصطلاح استعمال کر کے مغربی کنارے کی طرف اشارہ کر رہے تھے، جس پر اسرائیل 1967 سے قابض ہے۔
امریکی صدر نے گزشتہ ہفتے نیتن یاہو کو مغربی کنارے کے الحاق سے خبردار کیا تھا، جب کہ یہ کچھ موجودہ اسرائیلی حکومت کے اراکین کی دیرینہ خواہش ہے۔
نیتن یاہو پارلیمانی اکثریت برقرار رکھنے کے لیے سموٹرچ کی قیادت میں پارٹی پر انحصار کرتے ہیں۔
-
ایردوآن کی ہسپانوی وزیرِ اعظم سے ملاقات: غزہ میں امداد پہنچانے کی کوششوں کی حمایت
صدر طیب ایردوآن نے ہسپانوی وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز کو بتایا کہ ترکی غزہ میں ...
بين الاقوامى -
ٹرمپ کی غزہ کی جنگ بندی کی خواہش کے سامنے کون سی رکاوٹیں ہیں ؟
سابق مصر سفیر عاطف سالم نے 21 نکاتی منصوبے کے حوالے سے ہر فریق کے نظریات میں خلا ...
بين الاقوامى -
غزہ پر شدید بم باری ، اسرائیلی فوج کا الشفاء ہسپتال کے گرد علاقہ خالی کرنے کا حکم
اسرائیلی فوج نے غزہ کے مغربی علاقے النصر میں گھروں کو کئی ٹن دھماکہ خیز مواد سے ...
بين الاقوامى