سربیا کی پولیس نے 11 افرد کو انسداد نفرت ایکٹ کے تحت گرفتار کر لیا ہے۔ ان گرفتار کیے گئے افراد پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے یہودیوں کے مراکز کو نقصان پہنچایا تھا اور مسلمانوں کی مساجد کے باہر خنزیر کے سر کاٹ کر پھینکے تھے۔ یہ بات حکام نے پیر کے روز بتائی ہے۔
ان واقعات میں مبینہ طور پر ملوث بارھواں شخص ابھی مفرور ہے۔ جس پر الزام ہے کہ وہ ان تمام افراد کو تربیت د ینے کا ذمہ دار تھا اور اسے غیر ملکی انٹیلیجنس سے ہدایات ملتی تھیں۔
سربیا کی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں کسی متعین فرد کا ذکر نہیں ہے۔ نہ ہی گرفتار کیے گئے افراد کی شہریت کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ کس ملک کے شہری ہیں۔
فرانس نے بھی ان دنوں تحقیقات کے حوالے سے مختلف اقدامات شروع کر رکھے ہیں۔ تاکہ حالیہ برسوں کے دوران ہنگامہ کرنے کے واقعات کی تہہ تک پہنچا جا سکے جو مبینہ طور پر غیر ملکی مداخلت کاری سے جڑے ہوئے ہیں۔
بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ ان واقعات میں ماسکو ملوث ہے۔
اس طرح کے واقعات میں عام طور پر یہودی و مسلم آبادی کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے۔ تاکہ اسرائیل کی غزہ میں جاری جنگ کے ساتھ ان واقعات کو جوڑا جا سکے۔
پچھلے دنوں nwنو مرے ہوئے خنزیروں کے کٹے ہوئے سر مساجد کے باہر اس لیے پھیکنے گئے تھے کہ خنزیر کو اسلام میں حرام سمجھا جاتا ہے اور مسلمان اسے پسند نہیں کرتے۔ یہ واقعات ماہ ستمبر کے شروع میں پیرس میں ہوئے تھے جس پر بعد ازاں شور ہوا کہ یہ مسلم دشمنی پر مبنی واقعات ہیں اور اس پر غم و غصے کا بھی اظہار کیا گیا۔ وزارت کے مطابق یہ واقعات اپریل و ستمبر کے درمیان ہوئے ہیں۔
علاوہ ازیں یہودیوں کے ہولوکاسٹ سے متعلق عجائب گھر کے باہر بھی ایسے واقعات رونما ہوئے جو یہودیوں کے لیے قابل قبول نہیں تھے۔ اس موقع پر مسلمانوں کی مظاہر کے نزدیک پھینکے گئے خنزیر کے سر تو تھے ہی ساتھ ہی ساتھ ایسے سٹیکر بھی پوسٹ کیے گئے جن پر نسل کشی لکھا گیا تھا۔
علاوہ ازیں بعض کے ساتھ فرانس کے صدر ایمانوئیل میکروں کانام لکھا گیا تھا۔ یاد رہے میکروں نے فلسطینی ریاست کو ماہ جولائی میں تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا کہ وہ جنرل اسلمبی کے اجلاس میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں گے۔ جیسا کہ پچھلے ہفتے ہونے والے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران فرانس و بعض دیگر یورپی ملکوں نے فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرلیا ہے۔
اس پر اسرائیلی ریاست میں صدر میکروں کے خلاف سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
خیال رہے فرانس یورپ میں یہودیوں کی میزبانی کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ اسی طرح فرانس ہی میں مسلمانوں کی آبادی بھی یورپ کے دیگر ممالک سے زیادہ ہے۔
فرانس کے شہریوں میں غزہ کے فلسطینیوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا جاتا ہے جو تقریباً دو سال سے جاری اسرائیلی جنگ کو بھگت رہے ہیں۔ یاد رہے اب تک اسرائیلی فوج 66000 سے زائد فلسطینیوں کو قتل کر چکی ہے، لاکھوں کو بے گھر کر چکی ہے۔ 168162 سے زائد فلسطینی زخمی ہیں اور سینکڑوں فلسطینی غزہ میں بھوک سے مارے جا چکے ہیں۔
فرانس کے تحقیق کرنے والوں نے تیزی سے ان گاڑیوں کو شناخت کیا ہے جن کے پاس سربیا کے لائسنس تھے۔ سربیا اور کروشیا کے فون نمبرز کے علاوہ ایسی چیزیں بھی موجود تھیں جو ان کی وہاں موجودگی کو ظاہر کرتی ہیں۔
فرانس کے عدالتی ذرائع نے 'اے ایف پی' کو بتایا ہے کہ ان واقعات میں ملوث افراد غیر ملکی مفادات کے لیے کام کر رہے ہیں۔
سربیا کے نائب صدر کا کہنا ہے کہ اعلیٰ حکام نے ماسکو کا بھی دورہ کیا ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب ماسکو نے یوکرین پر جنگ جاری رکھی ہوئی ہے۔