بالوں کی ایک لٹ بچوں میں ذہنی دباؤ کا راز بتا سکتی ہے: نئی تحقیق

دنیا بھر میں ہر چار بچوں میں سے ایک کسی نہ کسی دائمی بیماری کا شکار ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

بالوں کے کٹے ہوئے سرے کی ایک لٹ بچوں میں دائمی بیماریوں کی موجودگی کی نشاندہی کر سکتی ہے، اور یہ بتا سکتی ہے کہ کون سے بچے ذہنی دباؤ، افسردگی یا رویے کے مسائل کے زیادہ خطرے میں ہیں۔ یہ بات ایک حالیہ تحقیق میں سامنے آئی ہے، جو Stress and Health نامی سائنسی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔

ہر چار میں سے ایک بچہ بیمار

New Atlas نے اس سال کی گئی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا کہ دنیا بھر میں ہر چار بچوں میں سے ایک بچہ دائمی بیماری میں مبتلا ہے، اور اس کی شرح 10 سے 30 کے درمیان تخمینہ لگائی گئی ہے۔ جسمانی دائمی بیماری کے ساتھ زندگی گزارنا متعدد چیلنجز پیش کرتا ہے، جن میں علامات کا انتظام، ذہنی صحت کے مسائل، جیسے افسردگی اور اضطراب کا بڑھتا ہوا خطرہ، اور سماجی اثرات شامل ہیں۔

جسمانی دائمی بیماریاں

کینیڈا کی یونیورسٹی آف واٹرلُو کے محققین نے اس تحقیق کا دائرہ اس بات تک پھیلا کہ وہ سمجھ سکیں کہ بچوں کے بالوں میں موجود کورٹیسول کی سطح کے ذریعے ناپا جانے والا طویل مدتی دباؤ کس طرح جسمانی دائمی بیماریوں جیسے ذیابیطس نوع اول، بچوں میں گٹھیا، اور مرگی کے شکار بچوں میں ذہنی صحت کے مسائل سے جڑا ہوا ہے۔

زبردست جذباتی نقصان

ایما لِٹلر (Emma Littler) جو اس تحقیق کی سربراہ اور یونیورسٹی آف واٹرلو میں پبلک ہیلتھ سائنسز میں پی ایچ ڈی کی امیدوار ہیں، نے وضاحت کی کہ: "دائمی بیماری کے ساتھ زندگی گزارنا روزانہ کے چیلنجز کا سامنا کرنا ہے، جیسے دوائیں لینا، اسکول سے غیر حاضری، اور سرگرمیوں میں تبدیلی، اور یہ سب شدید جذباتی نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا: "تحقیق کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ بالوں کے نمونوں کے ذریعے ناپا جانے والا طویل مدتی دباؤ ایسے بچوں کی نشاندہی میں مدد کر سکتا ہے جو دائمی بیماری میں مبتلا ہیں اور ذہنی صحت کے مسائل کا زیادہ خطرہ رکھتے ہیں، جس سے بروقت اور ہدفی مدد فراہم کرنے کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔"

ہرمون کورٹیسول

کورٹیسول ایک اسٹیرائیڈ ہارمون ہے جو غدودِ فوق گردہ (Adrenal Glands) پیدا کرتے ہیں، جو گردوں کے اوپر واقع ہیں۔کورٹیسول جسم کی دباؤ یا اسٹریس کے ردعمل کو منظم کرنے میں مدد کرتا ہے اور جسم کے اہم افعال جیسے کہ خون میں شوگر کی سطح، بلڈ پریشر، سوزش (Inflammation)، میٹابولزم اور نیند و جاگنے کے عمل کو کنٹرول کرتا ہے۔
کورٹیسول خون میں گردش کرتا ہے اور اس کی چھوٹی مقدار بالوں میں جمع ہو جاتی ہے۔ چونکہ بال مستقل رفتار سے بڑھتے ہیں، اس لیے بال ایک طرح سے دباؤ کے طویل مدتی نمونوں کا "ٹائم لائن" فراہم کرتے ہیں۔

1 سے 3 سینٹی میٹر لمبی بالوں کی ایک پٹی

عام طور پر سر کے بال تقریباً 1 سینٹی میٹر فی ماہ بڑھتے ہیں۔ لہٰذا، سر کے قریب 1 سینٹی میٹر لمبی بالوں کی پٹی تقریباً پچھلے ایک ماہ کے دوران کورٹیسول کے اثرات کو ظاہر کرتی ہے، اور 3 سینٹی میٹر لمبی پٹی تقریباً پچھلے تین ماہ کی نمائندگی کرتی ہے۔بالوں میں کورٹیسول کی مقدار کو ناپنا ایک نسبتاً نیا اور غیر جراحی طریقہ ہے، جو صرف چند منٹ یا گھنٹوں کی بجائے مہینوں تک دباؤ کے اثرات کا جائزہ لینے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔

کورٹیسول کے نمونے/ سیمپل

بچوں میں کورٹیسول کے نمونے تین گروپوں میں تقسیم کیے گئے ہیں:
(۱)کورٹیسول کی زیادہ پیداوار (68%): اس گروپ میں بچوں میں کورٹیسول کی سطح مسلسل بلند رہی۔
(۲)کورٹیسول کی کم پیداوار (9%): اس گروپ میں بچوں میں کورٹیسول کی سطح مسلسل کم رہی۔
(۳)کورٹیسول کی زیادہ سے کم پیداوار (23%): اس گروپ میں ابتدا میں کورٹیسول کی سطح بلند تھی، لیکن بعد میں یہ سطح معمول کے مطابق کم ہو گئی۔
مطالعے سے معلوم ہوا کہ کورٹیسول کی زیادہ سے کم پیداوار والے بچوں میں ذہنی صحت کے مسائل (اندرونی یا بیرونی علامات) کم دیکھے گئے، بنسبت ان بچوں کے جو مسلسل زیادہ کورٹیسول کے گروپ میں تھے۔ جبکہ کورٹیسول کی کم پیداوار والے بچوں میں ذہنی صحت کے مسائل میں کوئی خاص فرق نہیں دیکھا گیا بنسبت ان بچوں کے جو مسلسل زیادہ کورٹیسول کے گروپ میں تھے۔

بچوں کے لیے ہدف شدہ مدد

بالوں میں کورٹیسول کو وقت کے ساتھ ٹریک کرنے کا یہ طریقہ ان بچوں کی شناخت میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے جو ڈپریشن، بےچینی یا رویے کے مسائل کے زیادہ خطرے میں ہیں۔ یہ طریقہ ان بچوں کے لیے ہدف شدہ معاونت فراہم کرنے کی بھی سہولت دیتا ہے، جن میں کورٹیسول کی سطح مسلسل بلند رہتی ہے۔مطالعے سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ذہنی ہوشیاری (Mindfulness) پر مبنی مداخلتیں کورٹیسول کی سطح کم کرنے اور بچوں کی مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں مؤثر ہو سکتی ہیں۔

ابتدائی تشخیص

ڈاکٹر مارک فیرو(Mark Ferro) شریک محقق اور یونیورسٹی آف واٹرلو کے شعبۂ صحت عامہ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر نے کہا: "ان خطرات کی ابتدائی تشخیص ڈاکٹروں اور خاندانوں کو اس قابل بنا سکتی ہے کہ وہ جذباتی اور رویے کے مسائل بڑھنے سے پہلے مداخلت کریں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ "بالوں میں موجود کورٹیسول ایک غیر جراحی اور آسان طریقہ فراہم کرتا ہے، جسے مستقبل میں بچوں کی جانچ اور یہ دیکھنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے کہ کونسی علاجی یا سپورٹ پروگرامز تناؤ کم کرنے میں مؤثر ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں