آٹھ جنگیں ختم کیں، نوبل انعام کا حق دار ہوں، پوتین کا ڈٹ کر مقابلہ کروں گا: ٹرمپ

وزارت دفاع کا نام بدل کر وزارت جنگ رکھنے کی تجویز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عسکری قیادت سے خطاب میں اپنی ’’امن قائم کرنے کی صلاحیت‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے آٹھ جنگوں کا خاتمہ کیا ہے اور اس بنیاد پر نوبل انعام کے حق دار ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ انعام انہیں نہیں بلکہ ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے ان کے خلاف کتابیں لکھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ غزہ اور یوکرین میں تنازعات اب بھی جاری ہیں، حالانکہ ان کی انتظامیہ نے ثالثی کی کوششیں کیں۔ ٹرمپ نے حماس کو خبردار کیا کہ اگر اس نے جنگ بندی کے منصوبے پر اتفاق نہ کیا تو اس کا انجام سنگین ہوگا۔

ورجینیا کے شہر کوانٹیکو میں فوجی قیادت سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتین اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلینسکی کو باہمی تعاون کے ذریعے جنگ ختم کرنا ہوگی۔ ان کے بقول "ہم پوتین کا بھرپور مقابلہ کریں گے تاکہ یوکرین کی جنگ ختم کی جا سکے"۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ ان کی پالیسی نے گذشتہ چار برسوں کی بدامنی کا خاتمہ کیا، جو دراصل سابق صدر جو بائیڈن کے دور کی طرف اشارہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وزارت دفاع کا نام بدل کر وزارت جنگ رکھنا ان کی آئندہ پالیسی کا حصہ ہے اور انہوں نے امریکی فوج کو ازسرنو مضبوط بنایا ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ہر میدان میں تمام ملکوں سے آگے ہے، بالخصوص چین اور روس کے مقابلے میں آبدوزوں کے شعبے میں بھی آگے ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ امریکہ چھٹی نسل کے جنگی طیارے کی تیاری کر رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فوج سے خطاب کے دوران (اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فوج سے خطاب کے دوران (اے ایف پی)

گذشتہ چند ہفتوں کے دوران ٹرمپ بارہا دعویٰ کر چکے ہیں کہ انہوں نے کئی جنگوں کا خاتمہ کیا، جن میں بھارت اور پاکستان کے درمیان تنازعہ بھی شامل ہے۔ وہ پرامید ہیں کہ غزہ کی جنگ ختم ہوگی اور مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہوگا۔

تاہم انہوں نے حالیہ دنوں میں روس اور یوکرین کی جاری جنگ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ماسکو پر ہلکی تنقید بھی کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں