جنگ کے سبب غزہ میں 42 ہزار افراد مستقل معذوری کا شکار ہو گئے : عالمی ادارہ صحت

سنگین چوٹوں میں اعضا کا کٹ جانا، ریڑھ کی ہڈی کے زخم، دماغی چوٹیں اور شدید جلنے کے واقعات شامل ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق غزہ کی پٹی میں جاری جنگ کے نتیجے میں تقریباً 42 ہزار افراد ایسے زخموں اور چوٹوں کا شکار ہوئے جن سے وہ مستقل معذوری میں مبتلا ہو گئے۔ ان افراد کو جن میں ایک چوتھا تعداد بچوں کی ہے، برسوں تک طبّی دیکھ بھال کی ضرورت رہے گی۔

ادارے نے جمعرات کے روز جاری اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اکتوبر 2023 سے اب تک جن 167376 زخمیوں کا اندراج کیا گیا ہے، ان میں سے ایک چوتھائی کو مستقل نوعیت کی چوٹیں پہنچی ہیں جب کہ پانچ ہزار سے زیادہ افراد کے اعضا کاٹنے کا آپریشن کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کو جنگ کے آغاز سے اب تک فلسطینیوں کو جن شدید نوعیت کی چوٹوں کا سامنا کرنا پڑا ہے ان میں 22 ہزار سے زیادہ ہاتھ پاؤں کی چوٹیں، 2000 سے زائد ریڑھ کی ہڈی کے زخم، تقریباً 1300 دماغی چوٹیں اور 3300 سے زیادہ سنگین جلنے کے واقعات شامل ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ "یہ چوٹیں سرجری اور بحالی کے ماہرین کی خدمات کی بڑی طلب پیدا کر رہی ہیں اور مریضوں اور ان کے خاندانوں کی زندگیوں کو یکسر بدل رہی ہیں"۔ ادارے کے مطابق ہر چار میں سے ایک زخمی بچہ ہے۔

فلسطینی علاقوں میں ادارے کے نمائندے رچرڈ پیبرکورن نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ان افراد کے لیے "ساری عمر جاری رہنے والی بحالی ضروری ہو گی"۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ غزہ کا صحت کا نظام اپنی گنجائش سے کہیں زیادہ دباؤ میں ہے اور وہ اس بحران سے پیدا ہونے والی شدید ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے۔ مجموعی طور پر 36 میں سے صرف 14 اسپتال جزوی طور پر کام کر رہے ہیں جب کہ بحالیِ صحت کی خدمات جنگ سے پہلے کے مقابلے میں ایک تہائی رہ گئی ہیں۔ ادارے نے کہا کہ طبی عملے اور شراکت داروں کی کوششوں کے باوجود کوئی بھی خدمت مکمل گنجائش سے فعال نہیں ہے۔

خصوصی تربیت یافتہ عملے کی کمی بھی سنگین ہو چکی ہے۔ جنگ سے پہلے غزہ میں تقریباً 1300 فزیوتھراپسٹ اور 400 آکیوپیشنل تھراپسٹ موجود تھے مگر بہت سے لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے اور کم از کم 42 ماہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔ ادارے کے مطابق اس وقت پورے علاقے میں مصنوعی اعضا کے صرف آٹھ ماہر باقی رہ گئے ہیں جو بڑی تعداد میں اعضاء کاٹنے کی حالتوں کو سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پیبرکورن نے زور دیا کہ "بحالی کا عمل نہ صرف جنگ زدہ زخمیوں کے لیے بلکہ دائمی امراض اور معذوریوں کے شکار افراد کے لیے بھی نہایت اہم ہے"۔

انھوں نے اس جانب توجہ دلائی کہ جنگ سے متعلق چوٹوں کے نفسیاتی اثرات بھی بہت گہرے ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ متاثرہ افراد کو جسمانی زخموں کے ساتھ ساتھ اپنے پیاروں کے نقصان اور روزمرہ کی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، جب کہ نفسیاتی مدد کی خدمات بہت محدود ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے فوری امداد کی اپیل کی ہے تاکہ طبی خدمات کو برقرار رکھا جا سکے۔ ادارے نے زور دیا کہ صحت کی تنصیبات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے، ایندھن اور طبی سامان تک بلا رکاوٹ رسائی دی جائے اور بنیادی اشیاء کی فراہمی پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں۔

ادارے نے جنگ بندی کا فوری مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ "غزہ کے عوام امن، صحت اور بحالی کے موقع کے حق دار ہیں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں