جنیوا: گلوبل فلوٹیلا سے اظہارِ یکجہتی کے احتجاج کے دوران پانچ سکیورٹی اہل کار زخمی

احتجاج کا آغاز پُر امن طور پر ہوا تھا اور اس میں تقریبا تین ہزار افراد شریک ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سوئٹزرلینڈ کی پولیس نے بتایا ہے کہ جنیوا میں مظاہروں کے دوران جھڑپوں میں پانچ سکیورٹی اہل کار زخمی ہوگئے۔ پولیس نے غزہ جانے والے "گلوبل صمود فلوٹیلا" کی حمایت میں ہونے والے احتجاج کو قابو میں لانے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔ اس بیڑے کو اسرائیل نے راستے میں روک لیا تھا۔

اس احتجاج کی وجہ سے جس میں تقریباً تین ہزار افراد نے شرکت، شہر کے وسط میں ٹریفک کی آمدورفت معطل ہو گئی۔ جمعرات کے روز ہونے والا مظاہرہ اُس وقت پُر تشدد صورت اختیار کر گیا جب مظاہرین ایک پل کے قریب پہنچے۔ سوئٹزرلینڈ میں اس نوعیت کی جھڑپیں شاذ و نادر ہی ہوتی ہیں، تاہم غزہ کے حق میں ہونے والے احتجاجوں میں حالیہ ہفتوں میں تیزی آئی ہے۔

اسرائیل کی جانب سے صمود فلوٹیلا کو روکنے کے اقدام نے جنیوا، زیورخ اور برن کے علاوہ اٹلی اور کولمبیا میں بھی مظاہروں کو جنم دیا۔

جنیوا سے سامنے آنے والی وڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس مظاہرین پر پانی برسا رہی ہے، ہجوم کے درمیان روشنی پھیلانے والے بم پھینک رہی ہے اور فسادات روکنے والی فورس مظاہرین کو پیچھے دھکیل رہی ہے۔

پولیس نے جمعے کو اپنے بیان میں کہا کہ ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ پانچ اہل کاروں کے زخمی ہونے کے بعد تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس کے ایک ترجمان نے جمعرات کو بتایا تھا کہ احتجاج کو کنٹرول کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا گیا کیونکہ مظاہرین چیزیں پھینک رہے تھے اور املاک کو نقصان پہنچا رہے تھے۔

اسرائیلی فورسز نے اس ہفتے 40 سے زیادہ کشتیوں پر مشتمل گلوبل صمود فلوٹیلا (بیڑے) کو روک لیا۔ یہ بیڑا غزہ کے محاصرے کو توڑ کر امداد پہنچانے کی کوشش میں گامزن تھا۔ ان کشتیوں میں 450 سے زیادہ غیرملکی کارکن سوار تھے، جن میں کچھ سوئس شہری اور سویڈن کی کارکن گریٹا تونبری بھی شامل تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں