ہالینڈ : لاکھوں ڈچ شہری غزہ میں جنگ کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

دوسرے یورپی ملکوں کے بڑے شہروں کی طرح ایمسٹرڈم میں بھی لاکھوں مظاہرین نے غزہ میں اسرائیلی جنگ کے دو سال مکمل ہونے کے سلسلے میں سخت احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں۔

مظاہروں کے منتظمین کے مطابق مظاہرین کی تعداد اڑھائی لاکھ کے لگ بھگ تھی۔ مقامی پولیس بھی مظاہرین کی اسی تعداد کی تصدیق کرتی ہے۔

فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے کرنے والے ان لوگوں کی اکثریت نے مارچ کے نام ' ریڈ لائن مارچ ' کی مناسبت سے سرخ لباس پہن رکھا تھا۔ اس احتجاجی مارچ کا اہتمام امریکی امن منصوبے کے اعلان سے پہلے سے کیا گیا تھا۔ تاکہ غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے آواز اٹھا سکیں۔

'دی پیکس ہالینڈ' کے منتظمین غزہ میں امن کی امید ظاہر کرتے ہیں لیکن ان کا مؤقف ہے کہ ٹرمپ کا امن منصوبہ ان کے غزہ کے لوگوں کے حق میں مؤقف کو تبدیل نہیں کرسکتا۔

مظاہرین میں ہر عمر کے لوگ ایمسٹرڈم پہنچے تھے۔ جو بارش کے باوجود تقریباً چھ کلو میٹر تک موجود رہے اور مظاہرہ کرتے رہے۔

ان کے ہاتھوں میں آزاد، آزاد فلسطین کے کتبے تھے اور یہ پر زور انداز میں نعرے لگا رہے تھے۔ ان نعروں میں اسرائیل کے لیے شرم کے نعرے بھی شامل تھے۔

کئی مظاہرین نے ایسے نعرے بھی لگائے کہ ہم اس وقت تک خود کو آزاد نہیں کہہ سکتے جب تک غزہ کے لوگ آزاد نہیں ہو جاتے۔

27 سالہ ایمیلیا ریورو نے کہا ہم غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی مذمت کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ ہم غزہ میں ہونے والے ہولناک اور المناک واقعات کو دیکھ کر کم از کم اتنا تو کر سکتے ہیں کہ مظاہرے کا حصہ بن کر اواز اٹھائیں۔

مظاہروں کے شرکاء نے حکومت سے اپنا یہ مؤقف دہرایا ہے کہ ہالینڈ کی حکومت غزہ کے جنگ زدہ انسانوں کے لیے کچھ نہیں کر رہی ہے۔ ان مظاہرین نے سیاست دانوں سے مطالبہ کیا کہ وہ 9 اکتوبر کو ہونے والے عام انتخابات سے قبل غزہ کے لوگوں کے لیے انسانی بنیادوں پر اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔

مظاہرین میں شامل افراد نے بالعموم امید ظاہر کہ کہ جلد سے جلد ایک حقیقی نوعیت کی غزہ میں جنگ بندی ہو جائے گی۔ غزہ کے جنگ زدہ شہری محفوظ ہوں گے اور ان تک امدادی سامان کی ترسیل ممکن ہوجائے گی۔

'دی پیکس' کے ڈائریکٹر رولین ساسی نے اسرائیل کی طرف سے غزہ میں نسل کشی پر دکھ کا اظہار کیا کہ یہ طویل عرصے سے جاری ہے۔ تاہم اسرائیل نسل کشی کرنے کا انکاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپنی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسرائیلی حکومت پر دباؤ ڈالے تاکہ غزہ میں جلد سے جلد جنگ بندی ممکن ہو۔

ہالینڈ ہی حکومت نے اسرائیل کے بارے میں اپنے مؤقف میں تبدیلی کی ہے اور یہ تبدیلی پچھلے ماہ مئی سے آہستہ آہستہ سامنے آئی ہے۔ جیسا کہ انتہائی دائیں بازو کے اسرائیلی وزیروں کے ہالینڈ آنے پر پابندی لگائی گئی اور انہیں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کے جرائم میں ملوث قرار دیا۔

پچھلے ماہ ہالینڈ کی حکومت نے ایک ایسا منصوبہ بنایا جس کا مقصد مغربی کنارے میں قائم یہودی بستیوں کی مصنوعات پر پابندی لگانا تھا۔ اسی طرح کے خیالات یورپی یونین اور کئی ملکوں کی طرف سے بھی پچھلے کئی مہینوں میں سامنے آئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں