افغانستان میں مسلط کیا گیا کوئی بھی غیر ملکی فوجی وجود تنازعات کو جنم دے گا : لاؤروف

روسی وزیر خارجہ کا مغرب سے محاذ آرائی ترک کرنے اور افغانستان کی تعمیرِ نو کی ذمے داری لینے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاؤروف نے کہا ہے کہ مغرب کو محاذ آرائی کی پالیسی ترک کرنی چاہیے اور افغانستان کی دوبارہ تعمیر کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے اس کی معیشت کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کرنا چاہیے۔

لاؤروف نے یہ بات افغانستان سے متعلق ماسکو فارمیٹ کے ساتویں مشاورتی اجلاس کی افتتاحی نشست میں کہی۔ لاؤرف کا کہنا تھا کہ "ہم ایک بار پھر مغرب پر زور دیتے ہیں کہ وہ تصادم کے راستے سے گریز کرے، جو کچھ قبضے میں لیا گیا ہے اسے واپس کرے اور جنگ کے بعد افغانستان کی بحالی و تعمیرِ نو اور اس کی معیشت و بنیادی ڈھانچے کو دہائیوں سے پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کرے"۔

روسی وزیر خارجہ نے زور دے کر کہا کہ افغانستان میں درپیش کئی سنگین مسائل مغربی ممالک کی معاندانہ پالیسیوں کی وجہ سے پیدا ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق مغربی ممالک اب بھی افغانستان کے خود مختار مالی اثاثے اپنے قبضے میں رکھے ہوئے ہیں، جبکہ افغان بینکاری نظام پر عائد پابندیاں اور قدغنیں بھی برقرار ہیں، جس سے معیشت کی بحالی میں شدید رکاوٹ آ رہی ہے۔

لاؤروف نے واضح کیا کہ روس افغانستان یا اس کے ہمسایہ ممالک میں کسی بھی غیر ملکی فوجی ڈھانچے کی تعیناتی کو یکسر مسترد کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کسی بھی غیر علاقائی فریق کی عسکری موجودگی خطے میں عدم استحکام اور نئے تنازعات کو جنم دے سکتی ہے۔

روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے اس سلسلے میں کہا کہ واشنگٹن اچھی طرح جانتا ہے کہ افغانستان امریکی دباؤ کے تحت اپنی قومی خود مختاری سے دست بردار نہیں ہو گا۔ ان کا یہ بیان امریکی صدر کے اس بیان پر ردِ عمل میں آیا جس میں ٹرمپ نے افغان حکومت کو دھمکی دی تھی کہ اگر اس نے بگرام کا فضائی اڈا امریکہ کے حوالے نہ کیا تو اسے "برے نتائج" کا سامنا کرنا پڑے گا۔

زاخارووا نے کہا کہ امریکی حکام کو معلوم ہے کہ افغان عوام، جنھوں نے نیٹو افواج کے خلاف جدوجہد کے ذریعے آزادی حاصل کی، امریکی انتباہ کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ انھوں نے افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے موقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مجاہد نے امریکی بیان پر واضح ردِ عمل دے کر اس عزم کا اظہار کیا ہے۔

روسی ترجمان نے یاد دلایا کہ امریکہ نے 2021 میں جو بائیڈن کی صدارت میں افغانستان سے انخلا پر عمل کیا اور اپنی دو دہائیوں پر محیط ناکام مہم کو ختم کیا، تاہم اب وہ کسی نہ کسی طریقے سے دوبارہ ملک میں اپنی فوجی موجودگی بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں