حوثیوں کے حملے کا نشانہ بننے والے ڈچ کارگو جہاز کے عملے کا زخمی رکن چل بسا
عملے کا ایک اور رکن اب بھی جیبوتی میں طبی نگہداشت میں ہے
گزشتہ ہفتے خلیج عدن میں حوثیوں کے حملے کا نشانہ بننے والے ہالینڈ کے ایک کارگو جہاز کے عملے کا رکن زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا۔ یہ بات جہاز چلانے والی کمپنیSpliethoff نے پیر کی شب ایک بیان میں بتائی۔ کمپنی کا صدر دفتر ایمسٹرڈیم میں ہے۔
کمپنی نے ہلاک ہونے والے فرد کی شناخت ظاہر نہیں کی، تاہم کمپنی کے ایک ترجمان نے ایک ڈچ ریڈیو اسٹیشن کو بتایا کہ وہ فلپائن کا شہری تھا۔
یہ جہاز "مینیرواخراخت" بین الاقوامی پانیوں میں خلیج عدن کے علاقے میں موجود تھا جب ایک دھماکا خیز مواد کے حملے سے اسے شدید نقصان پہنچا اور جہاز میں آگ بھڑک اٹھی۔ اس واقعے کے بعد عملے کے 19 ارکان جو روس، یوکرین، فلپائن اور سری لنکا سے تعلق رکھتے ہیں ... انھیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے بحفاظت نکالا گیا۔
یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے اس حملے کی ذمے داری قبول کی۔ یہ ملیشیا 2023 سے بحیرہ احمر میں متعدد حملے کر چکی ہے۔ ملیشیا ان بحری جہازوں کو نشانہ بناتی ہے جنھیں وہ اسرائیل سے منسلک سمجھتی ہے۔ حوثیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائیاں غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے دوران فلسطینیوں کی حمایت کے لیے کی جا رہی ہیں۔
کمپنی نے مزید بتایا کہ عملے کا ایک اور زخمی رکن فی الحال جیبوتی میں طبی نگہداشت میں ہے۔ کمپنی کے مطابق "اس کی حالت مستحکم ہے اور ہمیں توقع ہے کہ وہ اس ہفتے کے آخر تک اپنے ملک واپس جا سکے گا"۔