غزہ مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل، ٹرمپ کا امن معاہدے پر "حقیقی موقع" کا اظہار

امریکہ کا ایک اور وفد مذاکرات میں معاونت کے لیے قاہرہ روانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ غزہ میں امن معاہدے کے لیے ایک "حقیقی موقع" موجود ہے اور مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جب کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان بالواسطہ بات چیت کا سلسلہ سات اکتوبر کے حملوں کی دوسری برسی کے موقع پر جاری ہے۔

ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی سے ملاقات کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ایک حقیقی موقع ہے کہ ہم کچھ اہم کر سکیں"۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی مذاکراتی ٹیم بھی اس بات چیت میں شریک ہے اور "ایک اور وفد ابھی روانہ ہوا ہے تاکہ وہ ان مذاکرات میں شامل ہو سکے"۔

بالواسطہ مذاکرات مسلسل دوسرے روز مصر کے شہر شرم الشیخ میں جاری رہے۔ذرائع کے مطابق بات چیت مثبت ماحول میں ہو رہی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر مذاکرات میں شریک ہوئے ہیں، تاہم مصر کے وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی وفد بدھ کو بات چیت میں شامل ہوگا۔ وائٹ ہاؤس نے مزید بتایا کہ فی الحال قیدیوں کے تبادلے کی فہرستوں پر غور جاری ہے۔

اسرائیلی وفد کے حوالے سے تاحال واضح نہیں کہ اس کے سربراہ رون ڈیرمر کب شرم الشیخ پہنچیں گے یا مذاکرات میں ان کی شرکت کب متوقع ہے۔

اسی موقع پر امریکی وزیر خارجہ مارکو رو بیو نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ تمام مغویوں کی رہائی اور غزہ میں حماس کے اقتدار کے خاتمے کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقصد ایک دیرپا امن ہے جو اسرائیل کے تحفظ اور خطے کی خوشحالی کو آئندہ نسلوں تک یقینی بنائے۔ یہی صدر ٹرمپ کے منصوبے کا بنیادی ہدف ہے۔

حماس کے ترجمان فوزی برہوم نے دوسری برسی کے موقع پر کہا کہ تحریک نے تمام فائر بندی تجاویز، بشمول ٹرمپ کے حالیہ منصوبے پر مثبت ردعمل دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حماس کا وفد مصر میں تمام رکاوٹیں دور کرنے کے لیے کام کر رہا ہے تاکہ ایک مستقل فائر بندی، اسرائیلی انخلا اور منصفانہ قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق ممکن ہو سکے۔

سیاسی سرگرمیوں کے باوجود ادھر میدان جنگ میں اسرائیلی فوج نے غزہ پر بمباری جاری رکھی۔ جنوبی اسرائیل سے اٹھنے والے سیاہ دھوئیں کے بادل غزہ کی فضا میں پھیل گئے۔

العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق اسرائیلی حملے خاص طور پر شہر غزہ میں شدت سے جاری ہیں۔

قطر کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے تحت فوری طور پر غزہ پر حملے روکنے چاہئیں۔

اسی دوران اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے غزہ میں جنگ کے خاتمے اور تمام مغویوں کی غیرمشروط رہائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ انسانی المیہ ناقابلِ بیان سطح تک پہنچ چکا ہے، اس لیے فوری طور پر جنگ بندی اور خطے میں امن کی بحالی ناگزیر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں