مشرق وسطیٰ

امریکہ کا غزہ یا اسرائیل میں زمینی فوج بھیجنے کا کوئی منصوبہ نہیں: جے ڈی وینس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن کا غزہ یا اسرائیل میں زمینی فوج بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حماس کی جانب سے قیدیوں کی رہائی کسی بھی لمحے ممکن ہے۔

دو روز قبل خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے اعلیٰ امریکی حکام کے حوالے سے بتایا تھا کہ امریکہ غزہ میں استحکام یقینی بنانے کے لیے 200 فوجیوں پر مشتمل ایک مشترکہ ٹاسک فورس تعینات کرے گا، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکی فوجی فلسطینی علاقے میں زمینی طور پر موجود ہوں گے۔

رپورٹ کے مطابق اس مشترکہ فورس میں مصر اور قطر کے فوجی بھی شامل ہوں گے۔

ادھر ’ایسوشی ایٹڈ پریس‘ نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ امریکہ تقریباً 200 فوجیوں کو اسرائیل بھیجے گا جو جنگ بندی معاہدے کی نگرانی اور اس پر عمل درآمد میں مدد فراہم کریں گے۔ یہ ٹیم مختلف شراکت دار ممالک، غیر سرکاری تنظیموں اور نجی شعبے کے نمائندوں کے ساتھ کام کرے گی۔

امریکی حکام کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ اسرائیل میں ایک "فوجی و سول رابطہ مرکز" قائم کرے گی، جو انسانی امداد کے بہاؤ کے ساتھ ساتھ لاجسٹک اور سکیورٹی معاونت کو منظم کرے گا۔

اسی طرح ’اے ایف پی‘ نے بھی امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ تقریباً 200 امریکی فوجی "غزہ معاہدے پر مؤثر عمل درآمد کی نگرانی" کریں گے۔

دوسری جانب اسرائیل نے اعلان کیا ہےکہ تمام فریقوں نے مصر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ غزہ منصوبے کے پہلے مرحلے کے حتمی مسودے پر دستخط کر دیے ہیں۔

یہ پیش رفت غزہ میں دو برس سے جاری جنگ کے خاتمے کی سمت ایک اہم سنگ میل قرار دی جا رہی ہے، جس نے علاقے کو تباہ کر دیا اور اقوام متحدہ کے مطابق ایک بدترین انسانی بحران کو جنم دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں