فلسطینی نائب صدر حسین الشیخ نے کہا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے ساتھ مل کر غزہ میں جنگ بندی کی حمایت اور تعمیر نو شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ غزہ پر جنگ کے خاتمے کا ٹرمپ کا منصوبہ یہ خیال پیش کرتا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی بالآخر غزہ کا کنٹرول سنبھالے گی۔ تاہم یہ کنٹرول اصلاحات کے بعد ہی اسے دیا جائے گا۔ ٹرمپ کے منصوبے میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں حماس کی حکمرانی ختم ہونی چاہیے اور اس میں یہ توقعات بھی شامل ہیں کہ اس پٹی کو ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹک کمیٹی کے ذریعے چلایا جائے گا جس کی نگرانی ان کی سربراہی میں ایک بین الاقوامی ادارہ کرے گا۔ اور اس کمیٹی میں بلیئر بھی شامل ہے۔
حسین الشیخ نے کہا کہ انہوں نے بلیئر سے اردن کے دارالحکومت عمان میں ملاقات کی جس میں غزہ کے مستقبل کے حوالے سے اور صدر ٹرمپ کی جنگ کو روکنے اور خطے میں دیرپا امن قائم کرنے کی کوششوں کو کامیاب بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے ایکس پر کہا کہ ہم نے صدر ٹرمپ، مسٹر بلیئر اور متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ جنگ بندی کو مستحکم کرنے، امداد کے داخلے کی اجازت، یرغمالیوں اور قیدیوں کی رہائی اور بحالی اور تعمیر نو شروع کرنے کے لیے اپنی تیاری کی تصدیق کی ہے۔
واضح رہے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے غزہ کی پٹی پر فلسطینی اتھارٹی کی انتظامیہ کو مسترد کر دیا ہے۔ دونوں فریقوں حسین الشیخ اور بلیئر نے فلسطینی اتھارٹی کو نقصان پہنچانے کو روکنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے خاص طور پر اسرائیل کی طرف سے روکے گئے فلسطینی فنڈز کی واپسی پر زور دیا اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ایک جامع اور دیرپا امن کی تیاری کے لیے دو ریاستی حل کو نقصان پہنچانے سے روکنے پر بات کی۔
29 ستمبر کو اسرائیلی اخبار ’’ ہارٹز ‘‘ نے جنگ کے خاتمے کے بعد غزہ کی پٹی کا انتظام سنبھالنے کے بلیئر کے منصوبے کی تفصیلات شائع کی تھیں۔ اس منصوبے میں 387.5 ملین ڈالر کا تخمینہ بجٹ کے ساتھ تین سیکورٹی فورسز کی تشکیل شامل ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کے کردار کے حوالے سے اخبار نے کہا کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ کسی وقت غزہ کی انتظامیہ فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کر دی جائے لیکن اس میں کوئی ٹائم لائن نہیں بتائی گئی کہ یہ کب ہو گا۔