یمن کے ساحلی صوبے الحدیدہ میں حوثی ملیشیا کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگیں درجنوں خاندانوں کے لیے خوف اور خطرے کا باعث بن گئی ہیں۔ ان سرنگوں نے کسانوں، چرواہوں اور بچوں سمیت متعدد شہریوں کی جانیں لے لی ہیں۔
8 ماہ میں 147 شہری متاثر
"یمنی نیٹ ورک برائے انسانی حقوق و آزادیوں" کے مطابق حوثی باغیوں کی نصب کردہ بارودی سرنگوں کے نتیجے میں یکم جنوری 2025 ءسے 30 اگست 2025 ءتک الحدیدہ میں 147 شہری جاں بحق یا زخمی ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق "ان آٹھ ماہ کے دوران 64 شہری جاں بحق اور 83 زخمی ہوئے جب کہ شہریوں کی 68 گاڑیاں بھی متاثر ہوئیں"۔
رپورٹ جس کا عنوان "نقشوں کے بغیر بارودی سرنگیں" رکھا گیا ہے، میں بتایا گیا کہ حوثیوں نے سرنگیں عوامی اور نجی عمارتوں، گھروں، منڈیوں، مرکزی و ذیلی سڑکوں اور کھیتوں میں بغیر کسی امتیاز کے بچھا رکھی ہیں۔
نیٹ ورک نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حوثیوں پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ ان سرنگوں کے نقشے حوالے کریں۔
سعودی منصوبہ "مسام" کی کامیابیاں
دوسری جانب "سعودی منصوبہ برائے یمن سے بارودی سرنگوں کی صفائی" (مسام) نے بتایا کہ اس کے ماہرین نے رواں ماہ دو ہزار سے زائد دھماکا خیز مواد تلف کیا ہے اور پانچ لاکھ مربع میٹر سے زیادہ علاقہ محفوظ بنایا ہے۔
منصوبے کے بیان کے مطابق اکتوبر 2025 ءکے دوران مجموعی طور پر 2134 دھماکا خیز مواد صاف کیے گئے، جن میں 1975 غیر پھٹے گولے، 121 ٹینک شکن بارودی سرنگیں، 32 اینٹی پرسنل سرنگیں اور 6 دیسی ساختہ دھماکا خیز آلات شامل ہیں۔
بیان میں مزید بتایا گیا کہ "مسام" کی ٹیموں نے اپنی مہم کے آغاز یعنی 2018 ءکے وسط سے لے کر 10 اکتوبر 2025ء تک 5 لاکھ 19 ہزار سے زائد دھماکا خیز مواد ناکارہ بنایا، جب کہ 7 کروڑ 15 لاکھ مربع میٹر سے زیادہ رقبہ، جو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے زیرانتظام علاقے میں واقع ہے، صاف کیا گیا۔