چرچل سے لے کر ’’تمہاری ماں‘‘ تک کا سفر، سفارت کاری کی پالیسی کیسے بدل رہی؟
بدقسمتی سے سفارتی مکالمے کی زبان اپنی سابقہ نفاست سے گر گئی ہے: ایک عرب سفارت کار کی گفتگو
چند روز قبل وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے اس وقت پڑا تنازع کھڑا کردیا جب انہوں نے ایک صحافی کے اس سوال کے جواب میں کہ ہنگری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتین کے درمیان ملاقات کے لیے جگہ کے طور پر کیوں منتخب کیا گیا، ایک طنزیہ جواب دیا اور کہا ’’ تماری ماں ‘‘ نے ۔ انہوں نے یہ جواب دیا اور کمرے سے نکل گئیں لیکن صحافیوں کو حیرانی کی حالت میں چھوڑ دیا۔ زبان کا اس طرح پھسلنا دنیا بھر کے سفارتی منظر نامے میں کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں تھا۔
ایک ہفتہ سے بھی کم عرصہ قبل چینی وزارت تجارت نے باضابطہ طور پر تائیوان کے اقدامات کو ’’ سیاسی جسم فروشی ‘‘ کے طور پر بیان کیا تھا۔ وہ امریکہ کو وفاداری بیچنے کا حوالہ دے رہے تھے۔ اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی کے چند ماہ قبل فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے خلاف سخت ردعمل کو بھی کوئی نہیں بھولا۔ اس جھگڑے میں دونوں طرف سے ’’ قے‘‘ ، ’’ ناگوار ‘‘ ، ’’ چور ‘‘ اور ’’ قابل رحم ‘‘ جیسی اصطلاحات کا استعمال کیا گیا تھا۔
تاہم یہ واقعات غیر معمولی نہیں ہیں۔ یہ سب بیانات کی ایک طویل سیریز کے لنکس ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ سفارتی زبان اب وہ نہیں رہی جو پہلے تھی۔ پہلے نپی تلی زبان ہوتی تھی۔ ’’ ایکس ‘‘ اور ’’ ٹروتھ سوشل ‘‘ کے اس زمانے میں دوسرے کی توہین کرنا عام ہو گیا ہے۔
غیر قانونی منشیات فروش
ان میں سے تازہ ترین غیر معمولی وضاحتیں آج امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے سامنے آئیں جنہوں نے اپنے کولمبیا کے ہم منصب گسٹاو پیٹرو کو ایک "غیر قانونی منشیات فروش" قرار دیتے ہوئے اپنے ملک کے لیے امریکی امداد کی معطلی کا اعلان کیا۔
ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم ’’ ٹروتھ سوشل ‘‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ پیٹرو بڑے پیمانے پر منشیات کی پیداوار کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے، اسے امریکی فنڈنگ فوری طور پر ختم ہو جائے گی۔ پیٹرو نے واشنگٹن پر کیریبین کے پانیوں میں امریکی حملے میں کولمبیا کے ایک ماہی گیر کو ہلاک کرنے کا الزام عائد کیا تو ان ان کا یہ ردعمل سامنے آیا تھا۔
الزامات کے اس تبادلے سے براہ راست دشمنی کی ایک نئی سطح کا انکشاف ہوا۔ یہاں تک کہ سمجھے جانے والے اتحادیوں کے درمیان بھی دشمنی کی نئی سطح سامنے آئی ہے۔
ٹرمپ، اصول توڑنے والا
2016 میں وائٹ ہاؤس میں داخل ہونے کے بعد سے ڈونلڈ ٹرمپ سفارتی اصولوں اور یہاں تک کہ کچھ آداب کو توڑنے میں کسی بھی سابق امریکی صدر سے زیادہ متحرک رہے ہیں۔ انہوں نے افریقی صدور اور ہیٹی کے صدر کو ’’ شٹ ہول کنٹریز ‘‘کے طور پر بیان کیا۔ کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کو ’’ کمزور اور منافق ‘‘ قرار دیا۔
اپنے نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ مل کر زیلنسکی کے وائٹ ہاؤس کے دورے کے دوران ایک بدنام واقعہ میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے لباس کا مذاق اڑایا۔ ٹرمپ کی بیان بازی صرف ان کے مخالفین تک محدود نہیں تھی بلکہ ان کے اپنے اداروں تک پھیلی ہوئی تھی۔ انٹیلی جنس کمیونٹی سے لے کر عدلیہ اور میڈیا تک پر انہوں نے جملے بازی کی۔ ان کے غصے میں پاپولسٹ بیان بازی کی برتری کا واضح اظہار ہے۔
سرکاری میدان جنگ
دوسری طرف چین، روس اور یورپی یونین اب اس سلائیڈ سے محفوظ نہیں ہیں۔ چین نے واشنگٹن اور تائی پے کے بارے میں اپنے بیانات میں سخت، جارحانہ زبان استعمال کرنا شروع کر دی ہے۔ اپنے مخالفین کو اپنے لوگوں کی قسمت کے ساتھ "جواری" اور "ایجنٹ" کے طور پر بیان کیا ہے۔
امریکی ترجمان نے "جیو پولیٹیکل غنڈہ گردی" اور "معاشی بلیک میلنگ" کے بارے میں اتنے ہی سخت بیانات کے ساتھ جواب دیے ہیں۔ یہاں تک کہ یورپ، جو طویل عرصے سے اپنی سفارتی ٹھنڈک کے لیے جانا جاتا ہے، میں بھی اب کبھی کبھار ذاتی نوعیت کے باہمی بیانات کا تبادلہ سامنے آ جاتا ہے۔
گزشتہ برس ان کے درمیان دو طرفہ جھڑپوں کے کئی دوروں میں سے ایک میں اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے فرانسیسی صدر کو "اشرافیہ اور حقیقت سے دور" قرار دیا تھا۔ مؤخر الذکر نے یہ کہتے ہوئے جواب دیا کہ ’ قوم پرستی غریبوں کو نہیں کھلاتی‘‘
سفارت کاری سے "حکمت" غائب ؟
بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ لسانی زوال کوئی الگ تھلگ علامت نہیں ہے بلکہ فوری رابطے اور عوامی دباؤ کے دور میں سفارت کاری کی تبدیلی کا براہ راست نتیجہ ہے۔ پہلے سیاست دان سرکاری چینلز اور بند یادداشتوں پر انحصار کرتے تھے۔ آج وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لاکھوں لوگوں سے براہ راست خطاب کرتے ہیں جہاں الگورتھم غصے اور سختی کا بدلہ دیتے ہیں ناکہ تدبر اور شائستگی کا ۔ ونسٹن چرچل اور چارلس ڈی گال کے زمانے سے سیاسی بیان بازی نرم طاقت کا آلہ رہی ہے۔ آج زمین کی تزئین مزید کھردری ہو گئی ہے اور گویا سفارت کاری اپنی خوبصورتی کھو چکی ہے۔
غصے میں بھری دنیا کی زبان
اس تناظر میں ایک عرب سفارت کار جو پہلے واشنگٹن میں کام کر چکے تھے، نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ ‘‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے سفارتی مکالمے کی زبان اب اپنی سابقہ نفاست سے بگڑ کر شراب خانوں کی زبان تک جا پہنچی ہے۔ عوامی ماحول اور تال میل کے درمیان کچھ سوشل میڈیا کے معاملات میں یہ ایک زبان بن گئی ہے۔ دوہرے پیغامات بھیجنے کا حربہ جب کوئی امریکی اہلکار کسی ایشیائی اتحادی کو "منافق" قرار دیتا ہے یا چینی کسی یورپی اہلکار کو "غدار" قرار دیتا ہے تو اس کا مقصد سفارت کاری نہیں بلکہ اندرونی طور پر متحرک ہونا اور طاقت کا پیغام پہنچانا ہے۔
تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق اس کا نتیجہ بین الاقوامی تعلقات کی زبان پر اعتماد کا ٹوٹنا اور ممالک کی مذاکرات کرنے کی صلاحیت کا زوال ہے۔ عرب سفارت کار نے مزید کہا ماضی میں بین السطور بے عزتی کی جاتی تھی آج براہ راست الفاظ بولے جاتے ہیں اور جوابدہی کے احساس کے بغیر ایسا کیا جاتا ہے۔
"تمہاری ماں" سے لے کر "سیاسی جسم فروشی" سے لے کر "منشیات کا غیر قانونی سوداگر" تک ایسا لگتا ہے کہ سفارتی زبان دنیا کی تقسیم کا مترادف بن گئی ہے۔ یہ صہورت حال بڑی طاقتوں کے درمیان سیاسی انتشار اور نظریاتی تناؤ کی عکاسی کر رہی ہے۔ پاپولزم کے عروج اور اداروں پر اعتماد کے زوال کے ساتھ سیاسی زبان کے ماہرین کو خدشہ ہے کہ ریاستی گفتگو باہمی توہین میں بدل جائے گی۔ ناراض ٹویٹ اور جنگ کے فیصلے کے درمیان فاصلہ ختم ہو جائے گا۔