جوہری مذاکرات کا انحصار دوسرے فریق کے رویّے پر ہے:ایران کا مؤقف

برابری اور باہمی احترام کے بغیر کوئی گفتگو ممکن نہیں:تہران کا واضح پیغام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کہا ہے کہ جوہری مذاکرات کی بحالی دوسرے فریق کے مؤقف پر منحصر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران کسی بھی مکالمے میں اسی وقت شریک ہوگا جب بات چیت برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر ہو۔

انہوں نے وضاحت کی کہ "ہم تب ہی مذاکرات میں داخل ہوسکتے ہیں جب دوسرا فریق احترام کا مظاہرہ کرے اور بات چیت کو برابری کی بنیاد پر تسلیم کرے، نہ کہ بالا دستی کے قائم کرنے کی کوشش کرے۔ اس طرح کی روش دراصل شرائط مسلط کرنے کے مترادف ہوتی ہے۔ ہمارا مؤقف واضح ہے کہ گفتگو صرف مساوی بنیادوں پر ہی ممکن ہے"۔

فاطمہ مہاجرانی نے مزید کہا کہ دنیا بخوبی جانتی ہے کہ ایران ہمیشہ مکالمے کا حامی رہا ہے، لیکن یہ فطری بات ہے کہ ہم اس وقت تک کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے جب تک بات چیت کے اصولوں کا احترام یقینی نہ ہوجائے۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ سلامتی کونسل نے اقوام متحدہ کی منسوخ شدہ قراردادوں کو دوبارہ فعال کرنے کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ ان کے بقول قرارداد 2231 ختم ہوچکی ہے اور اس معاملے کو جاری رکھنے کی کوئی قانونی بنیاد نہیں رہی۔

ایرانی ترجمان نے کہا کہ"قرارداد 2231 عملاً اختتام پذیر ہوچکی ہے اور ایران، روس اور چین کے نزدیک اس کی بنیاد پر کسی مزید کارروائی کی کوئی گنجائش نہیں۔ خود سلامتی کونسل نے بھی اب تک سابقہ پابندیوں کو دوبارہ نافذ کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا"۔

انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی برادری کی بھاری اکثریت یک طرفہ پالیسیوں کو مسترد کرتی ہے۔ اصولی طور پر دنیا کو چند ممالک کو جن میں سے بعض اس اہل بھی نہیں ۔ عالمی امن و سلامتی کو نقصان پہنچانے والے معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دینی چاہیے، کیونکہ یہ عمل عالمی اداروں کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں