فرانس کے نورڈ (Nord) علاقے میں واقع ڈنکرک (Dunkirk) جغرافیائی لحاظ سے سٹریٹجک اہمیت کا حامل شہر ہے۔ یہ بحرِ شمال (North Sea) کے کنارے اور بیلجیم کی سرحد کے قریب واقع ہے۔
برطانوی ساحل سے اس کی مسافت تقریباً 50 کلومیٹر ہے۔ فی زمانہ اس علاقے کا شمار فرانس کے تیسرے بڑے بندرگاہی شہر میں ہوتا ہے۔ دوسرے دو ہم بندرگاہی شہروں میں مرسیلیا اور لوہاور شامل ہیں۔
فرانس کا حصہ بننے سے پہلے ڈنکرک کئی یورپی طاقتوں کے قبضے میں رہا۔ اس پر پہلے ہسپانیہ، نیدرلینڈز اور انگلینڈ کی حکومت رہی اور پھر یہ فرانس کو بیچ دیا گیا۔ اس ڈیل نے برطانوی عوام اور سیاستدانوں میں شدید غصہ پیدا کیا۔
ڈنکرک کی فروخت کا خیال
چالیس سالہ جنگ سے پہلے شارلیں (Charlemagne) کے دور سے ڈنکرک ہسپانیہ کے زیرِ انتظام نیدرلینڈز کے علاقوں کا حصہ رہا۔ چار دہائیوں پر محیط جنگ کے دوران فرانس نے لوئس تیرہویں (Louis XIII) کے دورِ حکومت 1635 میں ہسپانویوں کے خلاف جنگ میں حصہ لینے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں دکھائی۔
یوں ہسپانیہ کے نیدرلینڈز کے علاقے شدید لڑائی کے میدان بن گئے۔ اس جنگ کے دوران فرانسیسی فوج نے 1646 میں ڈنکرک پر قبضہ کر لیا، لیکن بعد میں 1652 میں یہ ہسپانویوں کے حوالے کر دیا گیا۔
1654 تک انگلینڈ نے اولیور کرومویل (Olivier Cromwell) کی قیادت میں ہسپانیوں کے خلاف جنگ میں حصہ لیا۔ مارچ 1657 میں دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدے کے بعد فرانسیسی اور انگریزی فوجوں نے ڈنکرک میں ہسپانیہ کے مضبوط ٹھکانوں پر حملہ کیا۔
جون 1658 میں ڈون (Dunes) کی جنگ کے بعد ڈنکرک ہتھیار ڈال کر فرانسیسی اور انگریزی افواج کے قبضے میں آ گئے۔ پہلے سے طے شدہ معاہدے کے مطابق فرانس نے ڈنکرک انگلینڈ کو دینے پر رضامندی ظاہر کی۔ پھر 1659 میں فرانس اور سپین کے درمیان امن کے معاہدے کے بعد ڈنکرک باضابطہ طور پر انگلینڈ کے علاقے میں شامل ہو گیا۔
1658 میں جنرل کرومویل کے انتقال اور 1660 میں بادشاہ چارلس دوم کے اقتدار سنبھالنے کے بعد انگلینڈ شدید مالی بحران کا شکار ہو گیا کیونکہ ملک کا خزانہ تقریباً خالی تھا۔ خزانہ دوبارہ بھرنے کی امید میں مشیر ایڈورڈ ہائڈ (Edward Hyde) نے بادشاہ چارلس دوم کو ڈنکرک فرانس کو بیچنے کی تجویز دی، اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ یہ علاقہ ہر سال تقریباً ایک ملین پاؤنڈ کی لاگت سے ریاست کے خزانے پر بوجھ ڈال رہا ہے۔
ڈنکرک کے بارے میں مذاکرات
انگلینڈ کی پارلیمنٹ میں شدید ناراضی کے درمیان 1662 میں انگلینڈ اور فرانس کے درمیان ڈنکرک کی فروخت کے لیے مذاکرات شروع ہوئے۔ اس دوران ایڈورڈ ہائڈ نے انگلش وفد کی قیادت کی۔
ابتدائی طور پر انگلینڈ نے ڈنکرک چھوڑنے کے بدلے 12 ملین فرانسیسی پاؤنڈ طلب کیے لیکن فرانس نے اس پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ زیادہ سے زیادہ دو ملین پاؤنڈ ہی ادا کریں گے۔
اس صورتحال میں ایڈورڈ ہائڈ نے اپنی قیمت کم کر دی اور سات ملین پاؤنڈ پیش کیے لیکن فرانس نے اس پیشکش کو بھی مسترد کر دیا۔
انہوں نے تجویز دی کہ کل چار ملین پاؤنڈ ادا کیے جائیں، جس میں سے دو ملین یکمشت ادا کئے جائیں اور باقی رقم دو سال کے عرصے میں تقسیم کر دی جائے۔
آخرکار دونوں فریقوں نے پانچ ملین فرانسیسی پاؤنڈ پر اتفاق کیا، جو اُس وقت تقریباً 350 ہزار برطانوی پاؤنڈ کے برابر تھے، اس کے بدلے میں انگلینڈ نے ڈنکرک اور اس کے قریبی تمام قلعہ بندیاں چھوڑ دیں۔
منصوبے کا خالق ملک بدر
ستمبر 1662 کے آخر میں انگلش پارلیمنٹ میں شدید غصے کے درمیان ڈنکرک کی فروخت کا معاہدہ طے پایا۔
دسمبر 1662 تک آخری انگلش فوجی ڈنکرک چھوڑ کر روانہ ہو گئے اور اسی وقت فرانسیسی بادشاہ لوئس چودہویں ذاتی طور پر اسے سنبھالنے کے لیے پہنچے۔
اگلے چند برسوں کے دوران ایڈورڈ ہیڈ ایک ناپسندیدہ شخصیت بن گئے اور ڈنکرک کے معاہدے کی وجہ سے پارلیمنٹ پر اعتماد کھو بیٹھے۔ اس کے علاوہ پارلیمنٹ نے ان کی تمام جائیداد ضبط کر دی اور انہیں ملک بدر کرنے کا حکم جاری کیا۔
اس صورتحال کے پیشِ نظر ایڈورڈ ہیڈ فرانس منتقل ہو گئے، جہاں انہوں نے اپنی باقی زندگی گزاری اور 1674 میں فوت ہو گئے۔
-
فرانس میں زیرِ حراست ایرانی خاتون قیدی تبادلے میں رہائی کے لیے تیار: تسنیم
فرانس میں زیرِ حراست ایک ایرانی طالبِ علم قیدیوں کے تبادلے میں رہائی کے لیے تیار ...
مشرق وسطی -
فرانس کے سابق صدر سرکوزی کی پانچ سال قید کا آغاز
فرانس کے سابق صدر نکولس سرکوزی نے پیرس کی لا سانتے جیل میں منگل کو پانچ سال قید کی ...
بين الاقوامى -
اٹھلیٹک شوز خواتین کے لیے مفید کیوں نہیں؟ حیران کن سائنسی انکشاف
ایک نئی سائنسی تحقیق میں چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے کہ دوڑ کے دوران ...
ایڈیٹر کی پسند