نایاب 'جین' کی دریافت سےگندم کی پیداوار 3 گنا بڑھنے کاامکان ...غذائی بحران کےخاتمےکی امید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی یونیورسٹی میری لینڈ کے محققین نے ایک نایاب "جِین" دریافت کیا ہے جو گندم کے پودے کو ایک پھول میں ایک کے بجائے تین بیضہ دانی پیدا کرنے کی صلاحیت دیتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ہی خوشے میں دانوں کی تعداد دگنی یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ اس طرح پیداوار میں غیر معمولی اضافہ ممکن ہے۔

یہ تحقیق 14 اکتوبر 2025 کو سائنسی جریدے “PNAS” میں شائع ہوئی اور اسے "العربیہ بزنس" نے ملاحظہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ جین جسے (WUS-D1) کہا جاتا ہے ... عام گندم میں غیر فعال حالت میں موجود ہوتا ہے، لیکن گندم کی ایک نایاب جنگلی قسم میں یہ قدرتی طور پر ایک تغیر کے نتیجے میں غیر معمولی طور پر فعال ہو گیا۔ جب یہ جین پھول کے ابتدائی بڑھوتری کے مرحلے میں فعال ہوتا ہے تو یہ ان ٹشوز (بافتوں) کی نشوونما کو تیز کرتا ہے جو مادہ اعضاء بنانے کے ذمے دار ہیں، اور نتیجتاً اضافی بیضہ دانیاں پیدا ہوتی ہیں۔

یہ خاصیت سب سے پہلے گندم کی ایک قدرتی تغیر شدہ قسم میں دیکھی گئی، لیکن اس وقت محققین کو معلوم نہیں تھا کہ یہ تبدیلی کیوں واقع ہوئی۔ بعد میں جب اس قسم کے ڈی این اے کا عام گندم سے تفصیلی موازنہ کیا گیا تو ماہرین نے دریافت کیا کہ WUS-D1 جین کا فعال ہونا ہی اس مظہر کی بنیادی وجہ ہے۔

تحقیق کے شریک مصنف اور شعبہ نباتات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر وجے تیواری کے مطابق "اس خاصیت کی جینیاتی بنیاد کی نشان دہی سے کسانوں کے لیے نئی اور زیادہ پیداواری گندم کی اقسام تیار کرنے کے دروازے کھل گئے ہیں۔ جینیاتی ترمیم کے جدید اوزار استعمال کر کے ہم اس خصوصیت کو مزید بہتر بنا سکتے ہیں، تاکہ کم لاگت میں زیادہ پیداوار دینے والی ہائبرڈ گندم تیار ہو سکے۔"

یہ دریافت صرف گندم تک محدود نہیں بلکہ اسے دیگر اناجی فصلوں پر بھی لاگو کیا جا سکتا ہے۔ عالمی زراعت کو اس وقت درپیش مسائل جیسے موسمیاتی تبدیلی، زرعی زمینوں میں کمی اور تیزی سے بڑھتی آبادی ... کے تناظر میں یہ جین پیداوار بڑھانے کی ایک بڑی امید بن سکتا ہے، وہ بھی بغیر زمین یا پانی میں اضافہ کیے۔

حتیٰ کہ اگر ہر پودے میں دانوں کی تعداد میں معمولی سا اضافہ بھی ہو جائے تو عالمی سطح پر خوراک کی دست یابی میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ اس سے نہ صرف خوراک کا تحفظ مضبوط ہو گا بلکہ روایتی اور مہنگے طریقوں پر انحصار بھی کم ہو جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں