کیا مصنوعی ذہانت میری ملازمت لے لے گی ؟ ... فرضی خاتون میزبان نے سب کو حیران کر دیا !

2018 سے چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شِنہوا کی خبریں ڈیجیٹل اینکروں کے ذریعے پیش کی جا رہی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

برطانوی ٹی وی چینل نے پیر کی شب ایک پروگرام نشر کیا جس میں مصنوعی ذہانت (AI) کے اثرات پر بات کی گئی ... تاہم حیرت انگیز طور پر پروگرام کی خاتون میزبان کوئی حقیقی صحافی نہیں تھی بلکہ وہ خود مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی تھی۔

اس مصنوعی میزبان کا نام عائشہ گیبن رکھا گیا جو درمیانی قد کے سیاہ بالوں والی خاتون کے طور پر دکھائی گئی۔ اس نے پروگرام کے آغاز میں کہا "مصنوعی ذہانت آنے والے برسوں میں ہر کسی کی زندگی کو متاثر کرے گی۔ کچھ لوگ اپنی ملازمتیں کھو دیں گے ... کال سینٹر کے ملازمین، کسٹمر سروس ورکرز اور شاید ٹی وی میزبان جیسے لوگ بھی"۔

پروگرام کے اختتام تک ناظرین کو یہ معلوم نہیں تھا کہ عائشہ حقیقی انسان نہیں بلکہ ایک AI سے تخلیق کردہ مجازی شخصیت ہے۔

اختتام پر اس نے کہا "میرا حقیقت میں کوئی وجود نہیں۔ میں زمین پر موجود نہیں تھی اس رپورٹنگ کے لیے ... مصنوعی ذہانت نے میری تصویر اور آواز تخلیق کی"۔

دستاویزی فلم کے مختلف مناظر میں یہ AI میزبان مختلف جگہوں پر ظاہر ہوتی رہی۔

اس دستاویزی فلم کا عنوان تھا "کیا مصنوعی ذہانت میری نوکری لے لے گی؟" ...

فلم اس بات کا جائزہ لیتی ہے کہ AI مستقبل میں موسیقی، فیشن، طب اور قانون جیسے مختلف شعبوں میں ملازمتوں کو کیسے متاثر کر سکتی ہے۔

یہ پروگرام برطانوی سرکاری ٹی وی "چینل 4" پر اس کے تحقیقی سلسلے “Dispatches” کے تحت نشر کیا گیا۔

چینل کی میڈیا سربراہ لوئیزا کومپٹن نے وضاحت کی کہ "چینل 4 باقاعدہ طور پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ میزبانوں کو استعمال کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ہماری اولین ترجیح معیاری، جانچ شدہ اور غیر جانب دار صحافت ہے ... جو مصنوعی ذہانت فراہم نہیں کر سکتی"۔

انھوں نے مزید کہا کہ یہ تجربہ "ایک اہم یاد دہانی ہے کہ مصنوعی ذہانت کس طرح منفی اثرات ڈال سکتی ہے اور کس قدر آسانی سے عوام کو ایسے مواد سے دھوکا دیا جا سکتا ہے جس کی تصدیق ممکن نہ ہو"۔

یہ پہلا موقع نہیں جب AI میزبان ٹی وی پر نمودار ہوا ہو۔ اس سے پہلے ہندوستان سمیت کئی ممالک میں AI اینکرز متعارف ہو چکے ہیں، جبکہ چینی خبر رساں ایجنسی شِنہوا نے 2018 سے ہی ڈیجیٹل نیوز اینکرز کے ذریعے خبریں نشر کرنا شروع کر دی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں