لیبیا میں باپ نے 7 بیٹوں کو قتل کرکے خودکشی کی: سکیورٹی ذرائع
چھ بیٹوں کو گولی مار کر قتل کیا گیا اور ساتویں کو تشدد کرکے مارا گیا
حالیہ دنوں میں لیبیا کا معاشرہ ایک خاندانی جرم کے صدمے سے دوچار ہوا جہاں بن غازی شہر کے علاقے الھواری میں ایک سکول کے سامنے سڑک کے کنارے ایک کار میں ایک باپ اور اس کے 7 بیٹوں کو گولیاں مار کر قتل کردیا گیا۔ اس جرم نے لیبیا کی رائے عامہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ یہ معاملہ ایک معمہ بنا رہا جس نے کئی سوالات اور مفروضات پیدا کردیے۔ کیا کسی نے اس خاندان کو ختم کیا یا باپ نے یہ سانحہ خود انجام دیا؟ بدھ کے روز بن غازی الکبری کے ڈائریکٹر سکیورٹی نے ان تمام سوالات کے جواب دیتے ہوئے اعلان کیا کہ ابتدائی تحقیقات سے انکشاف ہوا ہے کہ باپ نے اپنے سات بیٹوں کو قتل کرنے کے بعد خود بھی فائرنگ کر کے خودکشی کر لی۔
تفصیلات میں سکیورٹی ذمہ دار نے انکشاف کیا کہ ڈائریکٹوریٹ کو سڑک کے کنارے ایک گاڑی موجود ہونے کی اطلاع ملی جس میں بچوں اور ایک پچاس سالہ شخص کی لاشیں تھیں۔ سکیورٹی اہلکار موقع پر پہنچے اور دریافت کیا کہ یہ لاشیں شہری حسن الزوی اور اس کے 7 بیٹوں کی ہیں۔ بیٹوں میں سے چھ کی لاشیں کار کی سیٹوں پر موجود تھیں اور انہیں گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔ ساتویں بیٹے کی لاش گاڑی کے پچھلے ٹرنک میں موجود تھی اور طبی معائنے کے بعد یہ ظاہر ہوا کہ وہ تشدد اور اذیت کے نتیجے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔ بچوں کی عمریں پانچ سال سے تیرہ سال کے درمیان تھیں۔
بن غازی کے ڈائریکٹر سکیورٹی نے یہ بھی بتایا کہ جائے وقوعہ پر ابتدائی تحقیقات اور فرانزک شواہد سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ باپ نے ہی اپنے بیٹوں کو سر میں براہ راست فائرنگ کر کے قتل کیا۔ اس کے بعد اس نے اپنی زندگی کا خاتمہ بھی کر لیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ باپ کی بیویوں اور خاندان کے دیگر افراد سے پوچھ گچھ ابھی بھی جاری ہے۔ گسکیورٹی بیان نے لیبیا کی عوام کے دلوں میں غصے اور دکھ کے جذبات پیدا کردیے ہیں۔ یہ واقعہ معاشرے میں شدید بحث اور صدمے کا مرکز بنا ہوا ہے ۔ واقعہ ابھی بھی تحقیقات کی تکمیل اور اس سے سامنے آنے والی نئی تفصیلات کا منتظر ہے۔