اسرائیل کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں روکنے کے لیے امریکہ اور دیگر مزید اقدامات کریں

ترک صدر نے غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے ہر طرح کے تعاون کا عزم ظاہر کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ امریکہ اور دیگر کو اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ اسے غزہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی سے روکا جائے۔ ان میں پابندیوں کا ممکنہ استعمال یا ہتھیاروں کی فروخت روکنا بھی شامل ہے۔

نیٹو رکن ترکیہ بہت حد تک بالواسطہ شمولیت کے بعد ثالث کے طور پر جنگ بندی کے مذاکرات میں شامل ہوا ہے۔ گذشتہ ماہ ایردوآن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے بعد اس کے کردار میں اضافہ ہوا۔

ایردوآن نے خلیج کے علاقائی دورے سے واپسی پر نامہ نگاروں کو بتایا، "بطور ترکیہ ہم جنگ بندی محفوظ بنانے کے لیے اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ حماس فریق جنگ بندی کی پاسداری کر رہا ہے۔ درحقیقت وہ اس سے اپنی وابستگی کا برملا اظہار کر رہا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔"

جمعہ کو صدارتی دفتر نے ایردوآن کے تبصروں کی ایک نقل فراہم کی جس کے مطابق انہوں نے کہا، "اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی اور معاہدے کی مکمل تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری یعنی امریکہ کو مزید کچھ کرنا چاہیے۔ ہتھیاروں کی فروخت روک کر اور پابندیوں کے ذریعے اسرائیل کو وعدوں کی پاسداری پر مجبور کیا جائے۔"

انقرہ نے کہا ہے کہ وہ جنگ بندی کے نفاذ کی نگرانی کے لیے بننے والی "ٹاسک فورس" میں شامل ہو گا، اس کی مسلح افواج حسبِ ضرورت فوجی یا سویلین صلاحیت میں خدمات انجام دے سکتی ہیں اور یہ کہ وہ انکلیو کی تعمیرِ نو میں فعال کردار ادا کرے گا۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بدھ کے روز غزہ کی پٹی میں ترک سکیورٹی فورسز کے لیے کسی بھی کردار کی مخالفت کا عندیہ دیا۔

نیتن یاہو کے تبصروں کے بارے میں سوال پر ایردوآن نے اسرائیلی رہنما پر اپنی معمول کی تنقید سے گریز کیا اور غزہ میں کردار ادا کرنے کے سابقہ عزم کو تھوڑا نرم کرتے ہوئے کہا، اس معاملے پر بات چیت ابھی جاری ہے۔

انہوں نے کہا، "اس ٹاسک فورس پر بات چیت جاری ہے جو غزہ میں کام کرے گی۔ اس کا طریقہ کار ابھی واضح نہیں ہے۔ چونکہ یہ ایک کثیر الجہتی مسئلہ ہے اس لیے جامع مذاکرات ہو رہے ہیں۔ ہم اس معاملے پر غزہ کو کسی بھی قسم کی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔"

انہوں نے اپنا سابقہ مطالبہ بھی دہرایا کہ خلیجی ممالک غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے مالی امداد کی کوششوں پر کارروائی کریں اور کہا، کوئی بھی یہ کام تنہا مکمل نہیں کر سکتا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں