امریکہ کے صدر ٹرمپ نے کہا محمود عباس فلسطینیوں میں ایک بابے کی حیثیت رکھتے ہیں مگر فلسطینیوں کے پاس آج کل کوئی لیڈر نہیں ہے۔ جو بعد از غزہ جنگ کے منظر نامے میں فلسطینیوں کی قیادت کر سکتا ہو۔
صدر ٹرمپ نے اس تناظر میں فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کا ذکر کرتے ہوئے کہا میں اس کے ساتھ کافی عرصے سے مل رہا ہوں وہ ایک معقول آدمی ہیں مگر وہ ایسا ممکنہ لیڈر نہیں جس کی فلسطینیوں کو ضرورت ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ان خیالات کا اظہار 'ٹائم' سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔
وہ کہہ رہے تھے فلسطینیوں کے پاس اس وقت کوئی لیڈر نہیں ہے۔ کم از کم کوئی نظر آنے والا لیڈر نہیں ہے۔ وہ شاید اپنے لیڈر کو اس طرح سامنے لانا بھی نہیں چاہتے کہ جو سامنے ہوتا ہے اسے قتل کردیا جاتا ہے۔ فلسطینی لیڈر بننا مزے کا کام نہیں رہا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا محمود عباس بعد از غزہ جنگ بننے والی حکومت میں شامل کیے جا سکتے ہیں مگر ان کی وجہ سے فلسطین کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ سازی میں دیر ہونے کا خطرہ رہے گا۔ ہو سکتا ہے میں یہ رائے سازی میں ذرا جلدی کر رہا ہوں مگر چند نکات ایسے ہیں جن کی وجہ سے میں ایک رائے رکھتا ہوں۔
صدر ٹرمپ نے اس موقع پر اسرائیلی قید میں موجود فلسطینی رہنما مروان البرغوثی کا معاملہ بھی اٹھایا جو ممکنہ طور پر فلسطینیوں کی صدارت کے لیے موزوں ہو سکتا ہے۔ مگر وہ 2002 سے اسرائیلی جیل میں قید ہیں۔ انہیں دوسری انتفاضہ میں کردار کی وجہ سے گرفتار کیا گیا تھا اور آج بھی بہت سے فلسطینیوں کے نزدیک مزاحمت کی علامت مانے جاتے ہیں۔
اس سوال پر کہ اسرائیل مروان البرغوثی کو رہا کر دے گا ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا میں تقریبا پندرہ منٹ سے اس سوال پر آپ سے بحث کر رہا ہوں جیسے یہ فیصلہ کرنے جارہا ہوں۔