’’ العربیہ/ الحدث ‘‘ کے نمائندے نے بتایا ہے کہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود اسرائیل بعض خلاف ورزیوں کے ساتھ ساتھ فاقہ کشی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اس حوالے سے حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ہفتے کے روز ایک بیان جاری کیا جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ اسرائیل جنگ بندی معاہدے کی شرائط کی واضح خلاف ورزی کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خلاف ورزیوں میں روزانہ قتل، مسلسل ناکہ بندی، امداد پر پابندیاں اور رفح کراسنگ کھولنے سے انکار شامل ہیں۔
انہوں نے غزہ کی پٹی بالخصوص مشرقی حصے میں اسرائیلی فورسز کی جانب سے جاری بمباری اور گھروں اور رہائشی محلوں کی تباہی کی طرف بھی اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ غزہ کی پٹی پر جنگ بندی معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے۔ حازم قاسم نے ثالثوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ان خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالیں۔
یہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ’’ العربیہ/ الحادث ‘‘ کے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی فورسز اب بھی غزہ کی پٹی میں روزانہ 600 امدادی ٹرکوں کے داخلے کو روک رہی ہیں۔ 10 اکتوبر کو مصر، قطر اور امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والے معاہدے میں یومیہ 600 امدادی ٹرکوں کے غزہ میں داخلے کی شرط عائد کی گئی تھی۔ نمائندے نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل اب بھی مرغی، گوشت اور دیگر اشیاء کے داخلے پر روک لگا رہا ہے اور صرف کچھ قسم کے ڈبہ بند کھانے اور فوری تیار ہونے والے نوڈلز کے داخلے کی اجازت دے رہا ہے۔
انروا کی امداد
اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزینوں (انروا) نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل نے تباہ شدہ غزہ کی پٹی میں بے گھر خاندانوں کے لیے پناہ گاہ کے سامان اور موسم سرما کے سامان لے جانے والے ٹرکوں کے داخلے کو روک دیا ہے۔ ہفتہ کو ایک پریس ریلیز میں انروا نے موسم سرما کے قریب آتے ہی غزہ کے باشندوں کو پناہ اور گرمی فراہم کرنے کی بڑھتی ہوئی ضرورت کی تصدیق کی۔ ایجنسی نے کہا کہ اردن اور مصر میں اس کے گوداموں میں بے گھر خاندانوں کے لیے پناہ گاہوں کا سامان اور موسم سرما کا سامان موجود ہے تاہم اس کے غزہ میں داخل ہونے پر پابندی ہے۔
گزشتہ روز تل ابیب کے جنوب میں کریات گاٹ کی بستی میں سویلین ملٹری کوآرڈینیشن سینٹر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اقوام متحدہ کی ایجنسی پر حماس سے الحاق کا الزام لگایا تھا۔ روبیو نے یہ بھی کہا کہ انروا غزہ میں کوئی کردار ادا نہیں کرے گی اور پٹی میں آٹھ سے دس امدادی تنظیمیں ہوں گی۔ یہ اس وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیل نے حماس پر باقی 13 یرغمالیوں کی لاشوں کی واپسی میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگایا ہے۔ جمعے کے روز ایک اسرائیلی عہدیدار نے اخبار ’’ یدیعوت احرونوت ‘‘ کے حوالے سے بتایا کہ حماس نے 8 ہلاک ہونے والے یرغمالیوں کی لاشیں اپنے پاس رکھی ہوئی ہی اور پانچ دیگر کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے۔
اسرائیلی عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ تحریک حماس جنگ بندی کو بڑھانے اور معاہدے کے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے سے گریز کرنے کے مقصد کے ساتھ یرغمالیوں کی لاشوں کو حوالے کرنے کو موقوف کر رہی اور اس طرح ایک چال چل رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حماس کو غیر مسلح کیا جائے۔ امریکی صدر ٹرمپ کے منصوبے کے تحت 10 اکتوبر کو جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے حماس نے 15 قیدیوں کی باقیات اسرائیل کے حوالے کر دی ہیں اور ابھی اسے غزہ سے 13 دیگر یرغمالیوں کی لاشیں واپس کرنا ہیں۔ ٹرمپ کے منصوبے کے تحت اسرائیل واپس آنے والی ہر ایک لاش کے بدلے اسرائیل 15 فلسطینیوں کی لاشیں حوالے کرے گا۔ تاہم حماس نے حالیہ دنوں میں بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ لاشوں کو نکالنے کا عمل پیچیدہ اور وقت طلب ہے خاص طور پر دو سال کی تباہ کن جنگ کے بعد فلسطینی پٹی میں بڑے پیمانے پر تباہی کے پیش نظر یہ مزید مشکل ہوگیا ہے۔