فرانس میں انقلابی دور کا اس وقت خاتمہ 1799 میں اس وقت ہوا جب نپولین بوناپارٹ نے 9 نومبر 1799 کو ایک فوجی بغاوت کے ذریعے فرانسیسی انقلاب کا اختتام کیا اور حکومتِ قناصل کے تحت اقتدار سنبھال لیا۔
بعد ازاں جب 1804 میں نپولین نے خود کو فرانس کا شہنشاہ (امپراطور) قرار دیا، تو یورپ بھر میں خونی جنگوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ مختلف یورپی طاقتوں نے اس کے توسیع پسندانہ عزائم کو روکنے کے لیے ایک کے بعد ایک اتحادقائم کیے۔
ان خونریز جنگوں کے دوران نپولین بوناپارٹ ایک شاندار فوجی رہنما اور ماہر جنگی حکمتِ عملی کے طور پر اُبھرا، اس نے کئی اہم فتوحات حاصل کیں۔ 1806 میں نپولین کی فوج نے پروسیا (قدیم جرمنی) کی فوج کو شکست دے کر جرمن دارالحکومت برلن پر قبضہ کر لیا۔
پروس کی فوج پر برتری
1805 میں نپولین بوناپارٹ نے آسٹرلیتز کی جنگ میں آسٹریا اور روس کو شکست دے کر اپنی فوجی برتری ثابت کی، جس کے بعد وہ یورپ کے بڑے حصے پر غالب آ گیا۔اس دوران فرانس کی توسیع پسندانہ کارروائیوں نے پروسیا (جرمنی کی ایک طاقتور ریاست) کو سخت تشویش میں مبتلا کر دیا۔
پروسیا کو خدشہ تھا کہ کہیں اس کا اثر و رسوخ کم نہ ہو جائے یا فرانس اس پر حملہ نہ کر دے۔اسی خوف کے پیش نظر پروسیا نے روس برطانیہ اور سویڈن کے ساتھ مل کر ایک نیا اتحاد تشکیل دیا اور 9 اکتوبر 1806 کو فرانس کے خلاف جنگ میں شامل ہو گئی۔
یہ جنگ تاریخ میں چوتھے اتحاد کی جنگ (War of the Fourth Coalition) کے نام سے جانی جاتی ہے، جو تقریباً نو ماہ تک جاری رہی۔
اس جنگ میں پروسیا زیادہ دیر تک فرانسیسی افواج کے سامنے ٹک نہ سکی۔14 اکتوبر 1806 کو پروسیائی فوج نے نپولین بوناپارٹ کی افواج کے خلاف دو فیصلہ کن معرکے لڑے۔پہلی لڑائی جسے جینا کی جنگ (Battle of Jena) کہا جاتا ہے، اس میں نپولین بوناپارٹ نے خود اپنی فوج کی قیادت کی اور شہزادہ فریڈرک لوئس کی افواج کا مقابلہ کیا۔
دوسری لڑائی آورشٹیٹ کی جنگ (Battle of Auerstedt) میں نپولین نے قیادت کا ذمہ اپنے جنرل لوئی نکولا داوو (Louis-Nicolas Davout) کو سونپا،جس نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے ڈیوک آف برنز وِک (Duke of Brunswick) کی فوج کو بری طرح شکست دی۔
ان دونوں لڑائیوں کے بعد نپولین بوناپارٹ کے لیے پروسیا کے دارالحکومت برلن کی جانب بڑھنے کا راستہ کھل گیا اور 27 اکتوبر 1806 کو فرانسیسی شہنشاہ نپولین بوناپارٹ ایک شاندار اور تاریخی منظر میں برلن میں داخل ہوا جسے مؤرخین نے باعظمت لمحہ قرار دیا۔
نپولین کا برلن میں داخلہ
شاہی محافظ دستے کی قیادت کرتے ہوئے نپولین بوناپارٹ اس وقت برلن میں داخل ہوا جب پروسیائی بادشاہ فریڈرک ولیم سوئم (Frederick William III) شہر سے فرار ہو چکا تھا۔
جب نپولین برلن کی گلیوں سے گزرا تو اس کا استقبال سرد مہری کے ساتھ کیا گیا ، کوئی جشن یا خوشی کے مظاہر نہیں تھے۔شہر میں موجود بیشتر پروسیائی باشندے فرانسیسی فوج کے خلاف غصے اور نفرت سے بھرے ہوئے تھے، مگر پھر بھی وہ نپولین کو دیکھنے کے لیے جمع ہوئے۔
جب نپولین بوناپارٹ پروسیا کے دارالحکومت میں گھوم رہے تھے تو وہ سابق پروسیائی بادشاہ فریڈرک دوم (Frederick II) جسے فریڈرک اعظم بھی کہا جاتا ہے) کے مقبرے کی جانب گئے۔
فریڈرک دوم بچپن سے نپولین کی صلاحیتوں اور کارناموں کے معترف تھے۔ مقبرے کے سامنے نپولین نے اپنے ہمراہ فوجیوں سے کہا کہ اپنی ٹوپیاں اتارو، حضرات !اگر وہ زندہ ہوتا تو آج ہم یہاں نہ ہوتے اور ان سے بادشاہ کی عزت میں ٹوپیاں اتارنے کا احترام کرنے کو کہا۔
نپولین بوناپارٹ بعد میںبرلن کو فرانسیسی انتظام کے تحت لا دیا اور وہاں کے باشندوں پر بھاری ٹیکس عائد کر دیے، ساتھ ہی ان کی اہم ملکیتیں اور خوراکی ذخائر ضبط کر لیے گئے۔
دوسری جانب جب فرانسیسی فوجیوں نے شہر میں داخلہ کیا تو برلن میں وسیع پیمانے پر توڑ پھوڑ دیکھی گئی۔ فوجیوں نے متعدد سرکاری اور عوامی عمارات کو نقصان پہنچایا اور گھروں اور شہریوں پر حملے کیے۔
21 نومبر 1806 کو نپولین بوناپارٹ نے برلن فرمان (Berlin Decree) جاری کیا۔اس فرمان کے تحت نپولین نے برطانیہ پر براعظمی بندوبست (Continental Blockade) عائد کیا، جس کے ذریعے برطانیہ کو یورپ کے دیگر ممالک کے ساتھ اپنی تجارتی سرگرمیوں کا بڑا حصہ روکنے پر مجبور کیا گیا۔