کسانوں کی زبان بولتی AI مالاوی میں کیسے فصلوں کا بچاو کرتی ہے؟

مصنوعی ذہابت کسانوں کو ان کی مقامی زبان میں زرعی مشورے فراہم کرتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

جنوب مشرقی افریقا کے ملک مالاوی کے وسط میں ایک چھوٹے سے گاؤں میں کسانہ الیفوسینا متسیٹیکا اپنے خاندان کے روزگار کو خطرے میں ڈالنے والے المیے کا سامنا کر رہی تھی۔

العربيہ بزنس کے زیر مطالعہ آنے والی restofworld ویب گاہ کی رپورٹ کے مطابق وہ بھنڈی کی فصل دیگر پھلیوں اور مکئی کے ساتھ اُگاتی تھی مگر پانی کی کمی کی وجہ سے وہ مرجھانے لگی اور پھر یہ پھپھوندی کے حملے کا شکار ہو گئی، جس کی وجہ سے وہ اپنی پوری فصل کھو دینے کے قریب تھی۔

ایسے میں اسے اچانک ایک مدد ملی لیکن وہ مدد کسی پڑوسی یا زرعی ماہر کی طرف سے نہ تھی بلکہ ایک مصنوعی ذہانت سے حاصل ملی، جو اس کی مقامی زبان "چیتچوا" بولتی تھی۔

الیفوسینا کہتی ہیں: انہوں نے مجھے بتایا کہ اپنا سوال فون پر پوچھوں، میں نے ایسا کیا اور جواب آیا: مخصوص کیڑے مار دوا استعمال کرو۔ میں نے وہ دوا خریدی اور چھڑک دی، بھنڈی دوبارہ زندگی پا گئی۔ اگرچہ اس کے پاس کبھی اسمارٹ فون یا کمپیوٹر نہیں تھا، ایک سمارٹ ایپ نے اس کی فصل بچائی۔

یہ ڈیجیٹل مددگار'''اولانجیزی'' (Ulangizi AI) کہلاتا ہے، جو چیتچوا زبان میں مشورہ کے معنی رکھتا ہے، اسے برطانوی ادارہ Opportunity International نے ترقی پذیر ممالک کے کسانوں کی مدد کے لیے تیار کیا تاکہ وہ فصلوں کے مسائل کی تشخیص کریں اور اپنے زرعی سوالات کا جواب آواز یا پیغام کے ذریعے حاصل کریں۔

کسانوں کی بولی بولتی مصنوعی ذہانت

یہ ایپلیکیشن واٹس ایپ کے ذریعے کام کرتی ہے اور اس میں چیٹ جی پی ٹی اور دیگر لسانی ماڈلز کی صلاحیتیں شامل ہیں ،اس کے ساتھ مالاوی وزارت زراعت کے ڈیٹا اور مقامی منتقل شدہ علم کو بھی یکجا کیا گیا ہے۔

اسے اس طرح تربیت دی گئی ہے کہ وہ مقامی زرعی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے درست اور سادہ ہدایات فراہم کرے۔ بول ایسین جو ادارے میں ڈیجیٹل انوویشن کے سربراہ ہیں، وہ کہتے ہیں ہم یہ ٹول خود کسانوں کے تعاون سے ڈیزائن کرتے ہیں تاکہ جتنا ممکن ہو دوستانہ اور استعمال میں آسان ہو۔

اگرچہ مقامی زبان پر مصنوعی ذہانت کی تربیت دینا مشکل تھا کیونکہ دستیاب ڈیجیٹل وسائل کم تھے، مگر ٹیم آخرکار ایک قدرتی آواز والا ورژن تیار کرنے میں کامیاب ہو گئی، اس کے پہلے کچھ صارفین نے ابتدائی طور پر غیر معمولی لہجہ اور کبھی کبھی ہندی کی شکایت کی تھی۔

کھیتوں میں ڈیجیٹل انقلاب

مالاوی میں ہزاروں خاندان اپنی روزی روٹی کے لیے زرعی کام پر انحصار کرتے ہیں، ایسے ملک میں جہاں 70 فیصد سے زیادہ لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور آبادی تقریباً 20 ملین ہے۔
زرعی رہنمائی کے اہلکاروں کی کمی کی وجہ سے جہاں ہر 3000 کسانوں کے لیے ایک ہی اہلکار موجود ہے، اکثر کسان مشورہ حاصل کرنے کے لیے ہفتوں انتظار کرتے ہیں۔ لیکن اولانجیزی ایپ نے اس صورتحال کو بدل دیا ہے، اب کوئی بھی کسان اپنی بیمار فصل کی تصویر بھیج سکتا ہے یا صوتی سوال پوچھ سکتا ہے اور فوری جواب حاصل کر سکتا ہے۔

کِنگسلی جاسی چیرادزولو علاقے کے کسان ہیں، جب انہوں نے اپنے مکئی کے کھیت میں کیڑے دیکھےتب انھوں نے اس ایپ کا استعمال کیا۔ وہ کہتے ہیں: میں نے پتے کی تصویر کھینچی اور واٹس ایپ کے ذریعے بھیجی، جواب میں مجھے ایک اور کیڑے مار دوا کا مشورہ ملا۔ استعمال کے بعد کیڑے بالکل ختم ہو گئے اور تب سے میں صرف اس ایپ پر ہی انحصار کرتا ہوں۔

امید جگاتی ٹیکنالوجی

چیریٹی تنظیم Give Directly نے ہزاروں کسانوں کی مدد کی ہے کہ وہ پہلے سے انسٹال شدہ ایپ کے ساتھ موبائل فون خرید سکیں، یہ ایک ایسا منصوبہ ہے جس کا مقصد کسانوں کو مصنوعی ذہانت سے جوڑنا، پیداوار بڑھانا اور غربت کم کرنا ہے۔

ایمانوئیل کوانڈا جو لِلونگوی کی زرعی اور قدرتی وسائل یونیورسٹی کے صدر ہیں،وہ کہتے ہیں :اس کے لیے معلومات کو مسلسل اپ ڈیٹ کرنا ضروری ہے کیونکہ زرعی بیماریوں میں ہر سال موسمی اثرات کی وجہ سے تبدیلی آتی ہے ورنہ ٹیکنالوجی واقعی مفید نہیں ہو گی۔

اگرچہ کچھ دلچسپ غلطیاں بھی ہوئیں، جیسے ایپ نے ایک بار "وٹچ ہیزل" نامی پودے کے بارے میں سوال کا جواب دینے سے انکار کر دیا کیونکہ اسے لگا کہ یہ جادو سے متعلق ہے لیکن یہ منصوبہ ثابت کر چکا ہے کہ مصنوعی ذہانت فون کو ایک حقیقی زرعی آلے میں بدل سکتی ہے جو علم اُگاتی ہے جہاں پہلے یہ موجود نہیں تھا۔

امیر ممالک مصنوعی ذہانت میں پیداوار بڑھانے کے لیے اربوں ڈالرکی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

مالاوی کا تجربہ دکھاتا ہے کہ ایک سادہ ٹیکنالوجی جو لوگوں کی زبان بولتی ہے، دیہی معاشروں کی زندگی بدل سکتی ہے۔
اولانجیزی صرف ایک ایپلیکیشن نہیں بلکہ مستقبل کا ایک ماڈل ہے، جس میں الگوردم ہر کھیت اور ہر گاؤں میں موجود ہو سکتے ہیں، علم کو بارش سے بھی تیز منتقل کریں اور ایک خشک زمین میں امید کے بیج بوئیں جو حل کے لیے تڑپ رہی ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں