سعودی عرب سے سیکھ رہے ہیں، عالمی معیشت کے قیام کا مشترکہ عزم رکھتے ہیں:برطانوی وزیرِ

ریاض کے تجربے سے استفادہ اور سرمایہ کاری ماڈل تیار کرنا لندن کا ہدف ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

برطانوی وزیرِ سرمایہ کاری جیسن اسٹوکوڈ نے العربیہ سے گفتگو میں کہا ہےکہ ریاض اور لندن کے تعلقات محض اعداد و شمار یا معاہدوں تک محدود نہیں، بلکہ یہ باہمی شراکت، اعتماد اور مستقبل کی مشترکہ ویژن پر قائم ہیں۔

العربیہ سے خصوصی گفتگو میں اُن کا کہنا تھا کہ "ہم سعودی عرب سے سیکھ رہے ہیں اور اس کے ساتھ ایک پائیدار اور جدید عالمی معیشت کی تشکیل کے جذبے میں شریک ہیں۔ برطانیہ چاہتا ہے کہ سعودی عرب کے خودمختار دولت فنڈ—پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (PIF)—کے تجربے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرے، تاکہ مملکت میں طویل المدتی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے اسی طرز کا ماڈل تیار کیا جا سکے"۔

انہوں نے سعودی عرب کی ویژن 2030 کے تحت جاری معاشی تبدیلیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ لندن، ریاض کو عالمی سرمایہ کاری کے مستقبل کے تعین میں ایک اہم اسٹریٹجک شراکت دار سمجھتا ہے۔

اسی تناظر میں ریاض اور لندن کا ہدف ہے کہ 2030 تک باہمی سرمایہ کاری کے ذریعے 30 ارب پاؤنڈ کے منصوبے تک پہنچا جائے۔ یہ بات انہوں نے ریاض میں منعقدہ "فیوچر انویسٹمنٹ فورم " کے نویں اجلاس میں شرکت کے موقع پر کہی۔

انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب اور برطانیہ کے درمیان تعلقات باہمی اعتماد اور معاشی تکمیل کی مضبوط بنیاد پر قائم ہیں۔ ریاض میں جاری معاشی اصلاحات دونوں ملکوں کے درمیان گہرے تعاون کا تاریخی موقع فراہم کر رہی ہیں۔

جیسن اسٹوکوڈ کے مطابق برطانیہ کی نئی صنعتی حکمتِ عملیج جو گزشتہ سال شروع کی گئی اپنے مقاصد میں سعودی ویژن 2030 سے ہم آہنگ ہے، خصوصاً جدید ٹیکنالوجی، صاف توانائی، لائف سائنسز اور صنعتی شعبوں میں ہم نے سعودی ویژن کے ماڈل کو اپنایا ہے۔ اُنہوں نے زور دیا کہ "دونوں ممالک سائنس اور اختراع پر مبنی جدید معیشت کے ایک ہی ہدف کی جانب گامزن ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں