اٹلی کے شہر میلان میں روٹی پرخوفناک خونی تصادم کی کہانی

میلان کے خونریز واقعات میں 200 سے 400 افراد ہلاک اور تقریباً 4 ہزار زخمی ہو گئے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

اٹلی اگرچہ 1861 میں متحد ہو گیا تھا، لیکن ملک واضح طور پر تقسیم رہا۔ شمالی اٹلی کومہذب سمجھا جاتا تھا کیونکہ زیادہ تر صنعتیں اور بنیادی ڈھانچے وہیں موجود تھے، جبکہ جنوبی اٹلی دیہی اور غریب طرزِ زندگی پر قائم رہا، جہاں زمین دار طبقہ سماج پر حاوی تھا۔

دوسری جانب اٹلی کی وحدت سے وہ سماجی و معاشی استحکام نہیں آیا، جس کے خواب اتحاد کے حامیوں نے دیکھے تھے۔ اٹلی کا معاشرہ طبقاتی تفریق کا شکار رہا اور بہت سے لوگوں نے نئے اٹلی کے نظام کو مرکزی، غیر منصفانہ اور آمرانہ قرار دیا۔

اس کے علاوہ صنعتی انقلاب نے مزدوروں کے ایک نئے طبقے کو جنم دیا، جو بڑے شہروں میں مرکوز تھا۔ اس طبقے کو غربت، طویل اوقاتِ کار اور سخت محنت کی اذیت ناک شرائط کا سامنا کرنا پڑا۔ انیسویں صدی کے آخری برسوں میں اٹلی کی صورتحال پھٹ جانے کے دہانے پر پہنچ چکی تھی۔

روٹی کی قیمت میں اضافہ

1897 اور 1898 کے درمیان یورپ خصوصاً اٹلی گندم کی کمی کا شکار ہو گیا۔ یہ قلت خراب موسمی حالات اور کم فصلوں کی وجہ سے پیدا ہوئی۔ احتیاطی اقدام کے طور پر اٹلی کی حکومت نے مقامی کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے درآمدی گندم پر محصولات (ٹیکس) بڑھا دیے۔

تاہم ان اقدامات کے نتیجے میں گندم کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا، جس سے روٹی جو اس وقت اٹلی کے غریب طبقے کی بنیادی غذا تھی،وہ بھی بہت مہنگی ہو گئی۔

یہ زرعی بحران اٹلی میں مالی اور اقتصادی مشکلات کے ساتھ ساتھ آیا۔ بڑے شہروں، خصوصاً صنعتی مرکز میلانو میں، بے روزگاری کی شرح تیزی سے بڑھ گئی۔ ان تمام حالات کے نتیجے میں 1898 کے موسمِ بہار سے اٹلی بھر میں عوام نے روٹی اور روزگار کے مطالبے پر احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے۔

میلان میں مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران اطالوی فوجی
میلان میں مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران اطالوی فوجی

مزدور تحریک اور غریبوں کی حمایت

انیسویں صدی کے آخر میں اٹلی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں آئیں۔ ملک میں مزدوروں کی یونینیں (ٹریڈ یونینز) وجود میں آئیں اور انہیں غریب طبقے میں وسیع حمایت حاصل ہوئی۔ اسی دورا ن حکومت مخالف تحریک نے بھی عوامی مقبولیت حاصل کی۔ 1892 میں اطالوی سوشلسٹ پارٹی قائم ہوئی، جس نے غریب طبقے کے حقوق کے دفاع کو اپنا بنیادی مقصد بنایا۔

جب اٹلی کی حکومت نے مظاہرین کے خلاف سخت گیر اور جابرانہ پالیسی اختیار کی تو عوامی غصہ مزید بھڑک اٹھا۔ اس صورتحال میں یہ خدشہ پیدا ہو گیا کہ کہیں اطالوی شہروں میں پیرس کمیون 1871 جیسی بغاوتیں نہ بھڑک اٹھیں۔

فوج کو طلب کرنا

چھ مئی 1898 کو اٹلی کے شہر میلانو کی سڑکوں پر ہزاروں مزدوروں اور کسانوں نے روٹی کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف احتجاج کیا اور سستا کھانا فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اگرچہ مظاہرے پرامن تھے، لیکن میلانو کی پولیس نے طاقت کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔

اس کارروائی کے نتیجے میں حالات بگڑ گئے اور تشدد پھوٹ پڑا۔ شہریوں کی بڑی تعداد نے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دیں اور پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا۔

جب پولیس حالات پر قابو پانے میں ناکام رہی تو میلانو کے سکیورٹی چیف نے فوجی مدد طلب کی۔ اگلے دن سات مئی 1898 کو اٹلی کی حکومت نے میلانو میں مارشل لا (فوجی قانون) نافذ کر دیا اور جنرل فیورینزو باوا بیکارِس (Fiorenzo Bava Beccaris) کو امن بحال کرنے کی ذمہ داری سونپ دی۔ اس مقصد کے لیے جنرل بیکارِس نے 12 ہزار فوجیوں کے ساتھ بھاری توپیں اور مشین گنیں شہر میں تعینات کر دیں۔

بڑی تعداد میں ہلاکتیں اور زخمی

مظاہرین سے مذاکرات کرنے کے بجائے جنرل فیورینزو باوا بیکارِس نے سخت ترین راستہ اختیار کیا، اس نے میلانو کے رہائشی علاقوں پر توپوں سے گولہ باری کا حکم دیا اور اس کے بعد فوجیوں کو ان علاقوں میں داخل ہو کر مظاہرین کو پکڑنے کا حکم دیا۔

اس وحشیانہ کارروائی کے نتیجے میں بے شمار عورتیں اور بچے توپوں کی گولہ باری میں مارے گئے۔ نو مئی 1898 تک میلانو میں احتجاجی تحریک کو مکمل طور پر کچل دیا گیا۔

اس سرکوبی کے نتیجے میں 200 سے 400 افراد ہلاک ہوئے جبکہ تقریباً چار ہزار لوگ زخمی ہوئے۔ اس کے بعد اطالوی فوج نے بڑی گرفتاریاں شروع کیں، جن میں مظاہروں میں شریک کارکنان، مزدور یونین کے نمائندے اور سوشلسٹ پارٹی کے اراکین شامل تھے۔

سب سے زیادہ اشتعال انگیز بات یہ تھی کہ اطالوی بادشاہ نے جنرل بیکارِس کو ان مظاہروں کو کچلنے پر اعزاز سے نوازا۔ اس اقدام نے عوام میں شدید غصہ پیدا کیا، جس کے نتیجے میں اٹلی میں سیاسی بحران کھڑا ہو گیا اور چند ماہ بعد حکومت گر گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں