ماسکو کے واشنگٹن کو میمو بھیجنے کے بعد ٹرمپ-پوتن سربراہی ملاقات منسوخ: اطلاعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فنانشل ٹائمز کے مطابق یوکرین سے متعلق سخت گیر مطالبات کے بارے میں روس کے مضبوط مؤقف کے بعد امریکہ نے ایک طے شدہ سربراہی اجلاس منسوخ کر دیا جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے مابین بوڈاپسٹ میں ہونا تھا۔

فنانشل ٹائمز (ایف ٹی) نے اس معاملے سے واقف لوگوں کے حوالے سے کہا کہ یہ فیصلہ دونوں ممالک کے اعلیٰ سفارت کاروں کے مابین ایک کشیدہ کال کے بعد سامنے آیا۔

رائٹرز فوری طور پر ایف ٹی کی رپورٹ کی تصدیق نہیں کر سکا۔ وائٹ ہاؤس نے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ روسی حکومت کے عہدیدار تبصرہ کرنے کے لئے فوری دستیاب نہیں تھے۔

ماسکو اپنے مطالبات پر سختی سے قائم ہے بشمول یہ کہ یوکرین جنگ بندی کی شرط کے طور پر مزید علاقے اس کے حوالے کرے۔

ٹرمپ نے موجودہ خطوط پر فوری جنگ بندی کے لئے یوکرین کے مطالبے کی حمایت کی ہے۔

ٹرمپ اور پوتن ہنگری کے دارالحکومت میں جنگ بندی کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کرنے کے لئے متفق تھے جس کے چند دن بعد روسی وزارتِ خارجہ نے واشنگٹن کو انہی مطالبات کی نشاندہی کرنے والا ایک میمو بھیجا جو بقول پوتن ان کے حملے کی "بنیادی وجوہات" ہیں جن میں علاقائی مراعات، یوکرین کی مسلح افواج میں نمایاں کمی اور اس بات کی ضمانتیں شامل ہیں کہ وہ کبھی نیٹو کا حصہ نہیں بنے گا۔

روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف کو فون کال کے بعد امریکی سکریٹری خارجہ مارکو روبیو نے ٹرمپ کو بتایا کہ ماسکو نے معاملات طے کرنے کے لئے کوئی رضامندی ظاہر نہیں کی۔ اس کے بعد امریکہ نے سربراہی اجلاس منسوخ کر دیا، ایف ٹی کی رپورٹ میں مزید کہا گیا۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے رواں ماہ کہا تھا، جبکہ یوکرین امن مذاکرات کے لئے تیار ہے تو وہ ماسکو کے مطالبے کے مطابق اضافی علاقے سے اپنی افواج پہلے واپس نہیں بلائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں