ایران نے امریکہ کے جوہری تجربات کو "غیر ذمہ دارانہ یو ٹرن" قرار دے دیا

عراقچی نے ٹرمپ پر تنقید کی: جوہری ہتھیاروں سے لیس غصیلا شخص جوہری تجربات دوبارہ شروع کر رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ایرانی وزیر خارجہ نے جمعرات کے روز امریکہ کے جوہری ہتھیاروں کے تجربات دوبارہ شروع کرنے کے اعلان کو ایک ''غیر ذمہ دارانہ یو ٹرن اقدام '' قرار دیا، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اچانک فیصلے کے بعد سامنے آیا۔

اے ایف پی نے عباس عراقچی کی سوشل میڈیا پوسٹ کے حوالے سے بتایا کہ جوہری ہتھیاروں سے لیس غصیلا شخص دوبارہ جوہری تجربات شروع کر رہا ہے۔ یہی شخص ایران کے پرامن جوہری پروگرام کو بھی شیطانی قرار دے چکا ہے، جسے فرانسیسی پریس نے نقل کیا۔

عراقچی نے مزید کہا: امریکہ کا یہ اعلان ایک پیچھے مڑنے والا اور غیر ذمہ دارانہ اقدام ہے اور بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے شدید خطرہ ہے۔

ٹرمپ نے اپنے ملک کو جوہری ہتھیاروں کے تجربات دوبارہ شروع کرنے کے احکامات دیے، جس سے دنیا میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں، خاص طور پر روس اور چین کے ساتھ اس میدان میں بڑھتی ہوئی مسابقت کے درمیان۔

ماہرین اور حکومتیں دونوں حیران ہیں کہ امریکی صدر کا مطلب کیا تھا ،جب انہوں نے جمعرات کو اعلان کیا کہ دوسری ممالک کے تجرباتی پروگراموں کی وجہ سے میں نے محکمہ دفاع کو ہدایت دی ہے کہ ہمارے جوہری ہتھیاروں کے تجربات بھی برابر کی سطح پر شروع کیے جائیں۔

انہوں نے صحافیوں کو مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کے بڑے حریف خاص طور پر چین اور روس بظاہر سبھی جوہری تجربات کر رہے ہیں اور مزید کہا: اگر وہ تجربات کر رہے ہیں تو مجھے لگتا ہے کہ ہم بھی کریں گے۔

چین نے جمعرات کو امریکہ سے درخواست کی کہ وہ جوہری تجربات پر عالمی پابندی کو سنجیدگی سے برقرار رکھے۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا: دوسری ممالک کے تجرباتی پروگراموں کی وجہ سے میں نے محکمہ دفاع کو ہدایت دی ہے کہ ہمارے جوہری ہتھیاروں کے تجربات بھی برابر کی سطح پر شروع کیے جائیں اور کہا کہ یہ تجربات فوری طور پر دوبارہ شروع کیے جائیں گے۔

انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ کے پاس کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ جوہری ہتھیار ہیں اور اپنی کوششوں کی تعریف کی کہ موجودہ ہتھیاروں کی مکمل اپ ڈیٹ اور تجدید کی گئی ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ روس دوسرے نمبر پر ہے اور چین تیسرے نمبر پر ہے، جس کے ساتھ بہت فرق ہے، لیکن پانچ سال میں یہ دونوں برابر ہو جائیں گے۔

روس کے صدر ولادیمیر پوتین نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ ماسکو نے کامیابی سے ایک روسی زیرِ آب میزائل کا تجربہ کیا ہے ،جو جوہری ہتھیار لے جانے کے قابل ہے، جو واشنگٹن کی وارننگ کے باوجود ایک چیلنج ہے۔

جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کی عالمی مہم نے اعلان کیا کہ روس، امریکہ، چین، فرانس، برطانیہ، پاکستان، بھارت، اسرائیل اور شمالی کوریا کے پاس جوہری ہتھیار ہیں۔

اس مہم کے مطابق دنیا میں موجود 12331 جوہری وار ہیڈز میں سے 5500 روس میں ہیں، جبکہ امریکہ کے پاس 5044 وار ہیڈز ہیں۔

1945 میں پہلی بار جوہری بم کا تجربہ 16 جولائی کو نیو میکسیکو میں کیا گیا اور 1992 تک امریکہ نے 1054 جوہری تجربات کیے اور دوسری عالمی جنگ کے دوران جاپان پر دو جوہری حملے کیے۔

امریکہ کا آخری جوہری تجربہ ستمبر 1992 میں نیواڈا کے نیوکلیئر سکیورٹی سائٹ پر زمینی طور پر 20 کلو ٹن طاقت کے ساتھ کیا گیا۔

اکتوبر 1992 میں صدر جارج بش سینئر نے جوہری تجربات پر پابندی عائد کی، جو بعد کی تمام حکومتوں کے دوران بھی جاری رہی۔

اس کے بعد جوہری تجربات کی جگہ غیر جوہری اور غیر خطرناک تجربات نے لے لی، جو جدید کمپیوٹر سیمولیشنز کے ذریعے کیے گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں