ناسا کے سربراہ نے کم کارڈشیان کے چاند پر اترنے سے متعلق الزامات مسترد کر دیے

کم کارڈشیان کا دعویٰ تھا کہ اپولو 11 مشن جعلی تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی وزیر برائے ٹرانسپورٹ اور نگران سربراہِ ناسا شون ڈفی نے امریکی ٹی وی اسٹار اور بزنس وومن کم کارڈشیان کے اس بیان کی سختی سے تردید کی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ 1969 میں انسان کا چاند پر اترنا ایک "جعلی واقعہ" تھا۔

شون ڈفی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم "ایکس" پر ایک پوسٹ میں لکھاکہ "جی ہاں، ہم پہلے بھی چاند پر جا چکے ہیں، 6 بار"۔

یہ ردِعمل اس وقت سامنے آیا جب کارداشیان کے ریئلٹی شو "دی کارڈشیان" کی تازہ قسط جمعرات کے روز نشر ہوئی، جس میں انہوں نے کہاکہ "میرا خیال ہے اپولو 11 مشن جعلی تھا"۔

اپولو 11 کے عملے میں نیل آرمسٹرانگ، مائیکل کولنز اور باز ایلڈرن شامل تھے۔ کم کارڈشیان نے مزید کہاکہ "میں نے باز ایلڈرن کے کچھ انٹرویوز دیکھے ہیں جن میں وہ کہتے ہیں کہ ایسا کبھی نہیں ہوا۔ شاید ہمیں باز ایلڈرن کو تلاش کرنا چاہیے۔"

واضح رہے کہ باز ایلڈرن جو نیل آرمسٹرانگ کے بعد چاند پر قدم رکھنے والے دوسرے انسان تھے، نے کبھی اس تاریخی واقعے کی تردید نہیں کی۔

ماہرین طویل عرصے سے ان "سازشی نظریات" کو غلط ثابت کر چکے ہیں جن کے مطابق چاند پر اترنے کا واقعہ جھوٹا تھا۔

جمعرات کی شب اپنی پوسٹ میں شون ڈفی نے لکھا کہ امریکہ دوبارہ انسانوں کو چاند پر بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے، جو ناسا کے "آرٹیمس پروگرام" کا حصہ ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ "ہم نے ماضی میں خلا کی دوڑ جیتی تھی، اور اس بار بھی کامیابی ہماری ہوگی"۔

امریکہ 1969ء سے 1972ء کے دوران چھ بار اپنے خلا بازوں کو چاند پر اتار چکا ہے، جہاں مجموعی طور پر 12 افراد نے چاند کی سطح پر قدم رکھا۔

یاد رہے کہ بز ایلڈرن جن کی عمر 95 برس ہے۔ اپولو 11 کے واحد رکن ہیں جو اب بھی حیات ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں