فرانس کے سب سے قدیمی اور سیاحتی اعتبار سے سب سے زیادہ اہمیت کے حامل عجائب گھر میں پچھلے ماہ ایک منظم چوری میں ملوث ہونے کے الزام میں اس ہفتے ایک عورت کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم جب اسے بعد ازاں عدالت میں پیش کیا گیا تو وہ آنسوؤں سے رونے لگی۔ اسے ہفتے کے روز عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔
38 سالہ فرانسیسی چور عورت نے اپنے ان آنسوؤں کی وجہ بتاتے ہوئے کہا اسے اپنے بچوں اور اپنی فکر نے پریشان کردیا ہے کہ کہ میرا اور میرے بچوں کا کیا بنے گا۔ اس فرانسیسی عورت پر الزام ہے کہ وہ قدیمی عجائب گھر سے ایک غیر معمولی چوری کی منظم واردات میں ملوث ہے۔ یہ خاتون چوری کی اس منظم واردات کی سازش میں ملوث تھی جس نے فرانس کے صدر میکروں تک کو تشویش میں مبتلا کر دیا تھا۔
عجائب گھر میں ہونے والی چوری نے فرانس میں چوروں کے منظم اور تجربہ کار کلچر کی نشاندہی کی اور اداروں کو اندازہ ہوا کہ جرائم کے لیے فرانس میں لوگ اس حد تک جا سکتے ہیں۔ یاد رہے فرانس مہذب یورپی دنیا کا ایک آزاد خیال نمائندہ ملک ہے۔ ماضی میں کئی عرب و افریقی ملکوں کو نوآبادیاتیاں بنا کر انہیں نچوڑتا رہا ہے۔ لیکن اب دنیا میں اس کی شہرت لبرل خیالات کے حوالے سے ہے اور سلامتی کونسل کا رکن ملک ہے۔ اس کی سائنسی و ٹیکنالوجی میں ترقی کا ایک شاہکار رافیل طیارہ ہے اور دوسرا اس کی تاریخی ورثے میں ایفل ٹاور ہے۔
فرانس کے ایک مجسٹریٹ کے سامنے اس خاتون کو ہفتے کے روز پیش کیا گیا تو مجسٹریٹ نے اس کی حراست کو جائز قرار دیا۔ یہ چوری کی بڑی واردات میں ملوث بظاہر ایک عام سی فرانسیسی خاتون ہے اور دارالحکومت پیرس کے شمال میں مضافاتی علاقے میں رہتی ہے۔ اس کی گرفتاری کو حکام نے امن و امان میں خلل سے بچنے کے لیے جاری رکھا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اب تک اس جرم میں فرانس کے مبینہ پانچ چوروں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ جن میں سے دو کے خلاف ہفتے کے روز فرد جرم عائد کر دی گئی جبکہ تین کو تفتیش کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے ان چوروں نے پچھلے ماہ دن دیہاڑے عجائب گھر میں جدید اوزاروں سے چوری کی تھی اور لگ بھگ 102 ملین ڈالر مالیت کے قدیمی زیورات نکال لے گئے تھے۔
فرانسیسی پراسیکیوشن سے متعلق حکام نے ابتدائی طور پر پانچ چوروں کی گرفتاری کی اطلاع دی تھی۔ تاہم بعد ازاں عدالت کو بتایا گیا کہ اس خاتون کے علاوہ پانچ مزید افراد اسی ہفتے حراست میں لیے گئے تھے۔
خاتون جسے حراستی ریمانڈ پر رکھا گیا ہے کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کی مؤکلہ صحت جرم سے انکاری ہے۔
زیر حراست مبینہ چور خاتون کے وکیل ایڈرین کورینٹینو نے رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا ان کی مؤکلہ خود کو بری طرح تباہ دیکھتی ہیں۔ وکیل کے مطابق اس کیس میں گرفتاریاں اندھے دھند انداز میں محض مفروضوں کی بنیاد پر کی گئی ہیں۔ ایک معصوم خاتون کو بھی بے گناہ ہونے کے باوجود گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ڈرفٹ نیٹ کی طرح گرفتاریاں
ایک اور زیر تفتیش شخص کو بھی عدالت میں پیش کرنے سے پہلے حراست میں رکھا گیا۔ جبکہ عدالتی کارروائی منگل تک ملتوی رکھی گئی ہے۔ اسی ہفتے پانچ گرفتار کیے گئے افراد میں سے تین کو بغیر کسی الزام کے رہا کر دیا گیا ہے۔
ایک خاتون وکیل صوفیا بورین نے مغربی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ بعض گرفتاریاں تو بلا جواز کر لی گئی ہیں اور گرفتاریوں کی باقاعدہ ایک لہر چل پڑی ہے۔
پہلے دو افراد جنہیں چوری اور جرم کی سازش میں گرفتار کیا گیا تھا انہوں نے الزامات کا جزوی اعتراف کر لیا ہے۔ یہ بات پیرس کے پراسیکیوٹر نے اسی ہفتے بتائی تھی۔ وہ ان دو افراد کو لے کر آئے تھے جنہوں نے عجائب گھر میں موجود زیورات کی گیلری میں نقب لگائی اور یہ باہر کھڑے انتظار کرتے رہے۔ دونوں پیرس کے شمالی مضافات میں رہتے ہیں۔
جبکہ ایک 34 سالہ شخص الجیرین شہری بتایا گیا ہے جس نے موقع سے فرار ہونے میں سکوٹر استعمال کیا۔ ایک اور شخص 39 سالہ ٹیکسی ڈرائیور ہے۔ یہ دونوں اس سے پہلے بھی پولیس کو چوریوں کے مقدمات میں مطلوب رہ چکے ہیں۔ پہلے کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ جہاز میں سوار ہو چکا تھا تاکہ پیرس سے الجیریا جا سکے تاہم اسے گرفتار کر لیا گیا۔